ہمارے دِل کے آئینہ میں ہے نقشہ محمد کا
خس و خاشاک سے بدتر ہے بیگانہ محمد کا
تمہارے ہی لیے تھا اے گنہگارو سیہ کارو
جگر ہوتا ہے ٹکڑے ٹکڑے جس دم یاد آتا ہے
غلامانِ محمد کے سروں سے بارِ عصیاں کو
سیہ ہیں نامۂ اَعمال اپنے گرچہ اے زاہد
ندا ہوگی یہ محشر میں گنہگارو نہ گھبراؤ
اگرچہ عابدوں کے پاس سامانِ عبادت ہے
لحد کا خوف کیوں ہو روزِ محشر کا ہو کیا کھٹکا
خدا کے سامنے پیشی ہوئی جس دم تو کہہ دوں گا
تعجب کیا اگر منہ پھیر لے جنت سے شیدائی
کوئی جائے گا دوزخ کو کوئی جنت میں پہنچے گا
الٰہی اس تنِ خاکی میں جب تک جان باقی ہے
نکالیں رُوح تن سے قابض الارواح جب آکر
ھُوَ الْمُعْطِیْ وَاِنِّیْ قَاسِمٌ سے صاف ظاہر ہے
نہیں موقوف کچھ اُن کی عطا اس ایک عالم پر
جمیلؔ قادری مشکل ہے مِدحت ختم کر اس پر
میں ہوں بندہ رضا کا اور رضا احمد کے بندہ ہیں
— Jamil Ur Rehman Qadri\
