ہمارے دل سے زمانے کے غم مٹا یارب
غمِ حیات ابھی راحتوں میں ڈھل جائیں
پئے حُسین و حَسَن فاطمہ علی حیدر
ہماری بگڑی ہوئی عادتیں نکل جائیں
مجھے دے خود کو بھی اور ساری دنیا والوں کو
ہمیشہ ہاتھ بھلائی کے واسِطے اٹّھیں
رہیں بھلائی کی راہوں میں گامزن ہر دم
گناہ گار طلبگارِ عَفو و رحمت ہے
کرم سے’’ نیکی کی دعوت‘‘ کا خوب جذبہ دے
عطا ہو دعوتِ اسلامی کو قبولِ عام
میں پُل صراط بِلا خوف پار کر لوں گا
کہیں کا آہ! گناہوں نے اب نہیں چھوڑا
— Unknown
