اک بار میں پھر آیا سرکار کے قدموں میں
روضے کی جالیوں کو جو یارو چوم آیا
گنبد کی چھاؤں میں جب اُن پہ سلام پڑھا
جو میں نے کہی نعتیں جو میں نے پڑھی نعتیں
جو مواجہہ کو دیکھا تو آنسو چھلک پڑے
روضے پہ ثاقبؔ جو نوری بارش ہوتی ہے
— Unknown
اک بار میں پھر آیا سرکار کے قدموں میں
روضے کی جالیوں کو جو یارو چوم آیا
گنبد کی چھاؤں میں جب اُن پہ سلام پڑھا
جو میں نے کہی نعتیں جو میں نے پڑھی نعتیں
جو مواجہہ کو دیکھا تو آنسو چھلک پڑے
روضے پہ ثاقبؔ جو نوری بارش ہوتی ہے
— Unknown