جب میرے دل کا درد، الم تک پہنچ گیا
یہ بھی نصیب ہی کی تو ہے بات دوستو
قاصر رہی زبان جو کہنے سے مدعا
سمجھوں گا میں کہ مل گئی معراج مجھ کو بھی
دیجے اب اذن گنبدِ خضریٰ کی دید کا
آۓ ہیں عزمیؔ بہر پذیرائی بھر سروش
— Mehboob Azmi\
جب میرے دل کا درد، الم تک پہنچ گیا
یہ بھی نصیب ہی کی تو ہے بات دوستو
قاصر رہی زبان جو کہنے سے مدعا
سمجھوں گا میں کہ مل گئی معراج مجھ کو بھی
دیجے اب اذن گنبدِ خضریٰ کی دید کا
آۓ ہیں عزمیؔ بہر پذیرائی بھر سروش
— Mehboob Azmi\