جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں
جہاں میں ان کی چلتی ہے وہ دم میں کیا سے کیا کردیں
فضا میں اڑنے والے یوں نہ اترائیں ندا کردیں
مری مشکل کو یوں آساں مرے مشکل کشا کردیں
منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں
عطا ہو بے خودی مجھ کو خودی میری ہوا کردیں
جہاں میں عام پیغام شہ احمد رضا کردیں
نبی سے ہو جو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں
تبسم سے گماں گزرے شب تاریک پر دن کا
کسی کو وہ ہنساتے ہیں کسی کو وہ رلاتے ہیں
گلِ طیبہ میں مل جائوں گُلوں میں مِل کے کِھل جائوں
انہیں منظور ہے جب تک یہ دورِ آزمائش ہے
سگ آوارۂ صحرا سے اُکتا سی گئی دنیا
زمانہ خوگر مے ہے نئی مے کی ضرورت ہے
مجھے کیا فکر ہو اختر مرے یاور ہیں وہ یاور
تمنائے دلِ اشرف بس اتنی ہے سرِ کوثر
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
