ظلمت کفر کو خورشید حرم تو نے کیابت پرستی بھی کھینچی آئی صدا پر تیری
دیدۂ سنگ کو کس پیار سے نم تو نے کیاجس سے انکار کوئی قوم نہیں کرسکتی
آدمیت پہ وہ احسان وہ کرم تو نے کیاچاند تاروں سے بھی آگے تھی رسائی تیری
آسمانوں کو مشرف بہ قدم تو نے کیاخاص ٹہری تو فقط تیری نبوت ٹہری
عام اللہ کو اللہ قسم تو نے کیاچل پڑیں لوگ بھٹک کر نہ جُدا رستوں پر
اس لیے دین میں دنیا کو بھی ضم تو نے کیااس قدر تو کوئی ماں بھی نہ تڑپتی ہوگی
جس قدر اُمت بیمار کا غم تو نے کیاتا ابد علم کی دنیائیں کرے گا آباد
حرف جو وقت کی لہروں پہ رقم تو نے کیاشعر گوئی تو مظفر کو خدا نے بخشی
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
