جمال روۓ نبیؑ، حسن کبریا ہے علیؑ
کچھ اس لیے بھی توحیدرؑ ہےشہرعلم کادر
ادھر ادھر کا سوالی نہ بن نہ عمرگنوا
صدا یہ آج بھی آتی ہے باب خیبر سے
حرم میں بت شکنی کا مظاہرہ دیکھو!
خبر تھی گرم کہ معراج کا سفر ہو گا
خدا کےدین، تری زندگی سلامت ہے
ہزارسامری سانپوں میں گھر کے خوف نہ کھا
علیؑ سے معرفت علم کی زکوٰۃ چلی
یہی صراطِ حقیقت، یہی سراج ازل
علیؑ کےپہلے پہر کی التماس نبیؐ
بکھر کے بولتے قرآن کا سراپا ہے
اسی کے نام کا نعرہ ہے ارتعاش وجود
علیؑ علیؑ سے منور گلی گلی محسن
— Mohsin Naqvi\
