جانے کیا کیا دان کیا ہے شہرِ مدینےوالے نے
سیدنا حمزہ کا قاتل آگیا جب دروازے پر
ایک خدا ہےاک ہےقرآں ایک ہی دےکردیں ہم کو
گمراہی کی دلدل میں تھے لت پت سارے لوگ مگر
ایک نظر فرمانےسےہی بات مری تو بن آئی
جن کی نہیں تھی کوئی عزت کوئی عظمت اُن کوبھی
شہر مدینے جانے والو تم کو لاکھ مبارک ہو
جن کا کوئی نہیں ہے ناصرؔان کا میں ہوں اے ناصرؔ
— Unknown
