جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی
ابھی پھٹتے ہیں جگر ہم سے گنہ گاروں کے
دیکھ آنکھیں نہ دکھا مہر قیامت ہم کو
حسنِ یوسف دَمِ عیسٰی پہ نہیں کچھ موقوف
ان کا کہنا نہ کریں جب بھی وہ چاہیں ہم کو
پار ہو جائے گا اِک آن میں بیڑا اپنا
حشر میں ہم سے گنہگار پریشاں خاطر
خاکِ دَر تیری جو چہروں پہ مَلے پھرتے ہیں
عاصیو کیوں غم محشر میں مرے جاتے ہو
جلوۂ شانِ الٰہی کی بہاریں دیکھو
باغِ جنت میں چلے جائیں گے بے پوچھے ہم
یاد کرتے ہیں عدو کو بھی دعا ہی سے وہ
ہم ہوں اور ان کی گلی خلد میں واعظ ہی رہیں
— Hassan Raza Khan Barelvi\
