جتنا مِرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
خاکِ مَدینہ پر مجھے اللہ موت دے
کیوں جائیں ہم کہیں کہ غنی تم نے کر دیا
جو کچھ تری رضا ہے خدا کی وہی خوشی
گو ہم نمک حرام نکمے غلام ہیں
شانِ کرم کو اچھے برے سے غرض نہیں
منگتا کا ہاتھ اٹھا تو مدینہ ہی کی طرف
اس دَر کی خاک پر مجھے مرنا پسند ہے
کونین دے دیے ہیں تِرے اختیار میں
محشر میں دو جہاں کو خدا کی خوشی کی چاہ
قرآن کھا رہا ہے اسی خاک کی قسم
طیبہ کی خاک ہو کہ حیاتِ اَبد ملے
سنگ ستم کے بعد دُعائے فلاح کی
دِل سے ذرا یہ کہہ دے کہ اُن کا غلام ہوں
طیبہ کے ہوتے خلد بریں کیا کروں حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
