کملی والے کا مسکن مدینے میں ہے کمی والے کا روضہ مدینے میں ہے
اس طرف اپنے اشکوں کی ہیں ڈالیاں اس طرف سبز گنبد کی ہیں جالیاں
آؤ شہرِ نبی سیاحت کریں شہرِ محبوبِ رب کی زیارت کریں
ہو سکونت جہاں شاہِ لولاک کی جس کے جھونکوں میں خوشبو نبی پاک کی
جس نے طیبہ میں اک طاردی حاضری اُس کی خود بخشوائیں گے میرے نبی
اک وہ بستی ہے محفوظ دجال سے نسبتیں ہیں جسے ہاشمی لال سے
میں مدینے کی عظمت لکھوں کیا بھلا مجھ کو ںاصرؔ پتہ ہےبس اک بات کا
— Unknown
