خراب حال کیا دِل کو پُرمَلال کیا
نہ رُوئے گُل ابھی دیکھا نہ بُوئے گُل سُونگھی
وہ دل کہ خوں شدہ ارماں تھے جس میں مل ڈالا
یہ رائے کیا تھی وہاں سے پلٹنے کی اے نفس
یہ کب کی مجھ سے عداوت تھی تجھ کو اے ظالِم
چمن سے پھینک دیا آشیانۂ بلبل
تِرا ستم زدہ آنکھوں نے کیا بِگاڑا تھا
حضور اُن کے خیالِ وطن مٹانا تھا
نہ گھر کا رکھا نہ اس دَر کا ہائے ناکامی
جو دِل نے مَر کے جلایا تھا منّتوں کا چراغ
مَدینہ چھوڑ کے وِیرانہ ہندؔ کا چھایا
تُو جس کے واسطے چھوڑ آیا طیبہ سا محبوب
اَبھی اَبھی تو چمن میں تھے چہچہے ناگاہ
الٰہی سُن لے رضاؔ جیتے جی کہ مولیٰ نے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
