خواب میں در کھلا حضوری کا
اک کسک جب مجھے نصیب رہی
جیسے جیسے ہوئی پذیرائی
کیف میں ڈوبتے گۓ شب و روز
روۓ انور خیال سے گزرا
آنسوؤں کے چراغ جل اٹھے
میرے دل میں جو داغِ حسرت تھا
پیروی ہےحضورؐ کی یا ہے
ان کے در پر نصیب ہوتا ہے
لاکھ حائل غمِ زمانہ ہوا
ختم ہوگا نہ بعدِ محشر بھی
دل کا سب درد کر بیاں اس میں
حاصلِ زندگی سمجھ تائب
— Hafeez Taib\
