کِس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اُجالا کیا ہے
مانگ من مانتی مُنھ مانگی مُرادیں لے گا
پند کڑوی لگے ناصِح سے ترش ہو اے نفس
ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے
ان کی امت میں بنایا اُنھیں رَحمت بھیجا
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب
زَاہد اُن کا میں گنہ گار وہ میرے شافِع
بےبسی ہو جو مجھے پرسشِ اَعمال کے وقت
کاش فریاد مِری سُن کے یہ فَرمائیں حضور
کون آفت زدہ ہے کِس پہ بَلا ٹُوٹی ہے
کِس سے کہتا ہے کہ لِلّٰہ خبر لیجے مِری
اس کی بے چینی سے ہے خاطِرِ اقدس پہ مَلال
یُوں ملائک کریں معروض کہ اِک مجرم ہے
سامنا قہر کا ہے دفترِ اعمال ہیں پیش
آپ سے کرتا ہے فریاد کہ یا شاہِ رُسُل
اب کوئی دم میں گرفتارِ بَلا ہوتا ہوں
سن کے یہ عرض مِری بحرِ کرم جوش میں آئے
کس کو تم مُوردِ آفات کِیا چاہتے ہو!
اُن کی آواز پہ کر اُٹھوں میں بے ساختہ شور
لو وہ آیا مِرا حامی مِرا غم خوارِ اُمم!
پھر مجھے دامنِ اَقدس میں چھپا لیں سرور
بندہ آزاد شُدہ ہے یہ ہمارے دَر کا
چھوڑ کر مجھ کو فرشتے کہیں محکوم ہیں ہم
یہ سماں دیکھ کے محشر میں اُٹھے شور کہ واہ
صَدقے اس رَحم کے اس سایۂ دامن پہ نثار
اے رضاؔ جانِ عنادِل تِرے نغموں کے نثار
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
