کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
دل کی بستی اور ارمانوں کی دنیا چھوڑ کر
گھر سے پہنچے اُن کے روضے پر تو ہم کو یوں لگا
کون نظروں پر چڑھے حُسنِ حقیقت کے سوا
اللہ اللہ آمدِ سلطانِ انس و جاں کی شان
مصطفی جنّت میں جائیں گے نہ اُمّت کے بغیر
تھی نہ چاہت دل میں زَہرا کے دولاروں کی اگر
رہروانِ راہِ حق تھے اور بھی لاکھوں ، مگر
اُن صحابہ کے اس اندازِ قناعت پر سلام
وہ ازل سے میرے آقا ، میں غلام ابنِ غلام
خوانِ شاہی کی ہوس رکھتے نہیں ان کے گدا
وہ سلامت اور اُن کا در سلامت تا ابد
میں کہاں گھوموں ، کہاں ٹھہروں ، کسے دیکھا کروں
اتّفاقاََ گر چلے جاتے وہ ساحل پر کبھی
ذہن میں رکھیے وہ ارشادِ نبی وقتِ وصال
اے مسلماں ! ہے یہی حکمِ خدا و مصطفی
پوچھنے پھر کون آئے گا نصیرؔ ان کے سوا
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی
— Peer Naseer Ud Din Naseer\
