کچھ کریں اپنے یار کی باتیں
ہم تو دل اپنا دے ہی بیٹھے ہیں
میں بھی گزرا ہوں دورِ الفت سے
اہل دل ہی یہاں نہیں کوئی
پی کے جام محبت جاناں
مر نہ جانا متاعِ دنیا پر
یوں نہ ہوتے اسیر ذلت تم
ہر گھڑی وجد میں رہے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
کچھ کریں اپنے یار کی باتیں
ہم تو دل اپنا دے ہی بیٹھے ہیں
میں بھی گزرا ہوں دورِ الفت سے
اہل دل ہی یہاں نہیں کوئی
پی کے جام محبت جاناں
مر نہ جانا متاعِ دنیا پر
یوں نہ ہوتے اسیر ذلت تم
ہر گھڑی وجد میں رہے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\