کیوں نہ ہو بہر لمحہ جستجو مدینے کی
جس کو جو بھی ملتا ہے ان کےدر سے ملتا ہے
ہم مدینہ گھوم آۓ جالیوں کو چوم آۓ
غمزدوں کو غم اپنے یاد ہی نہیں رہتے
وہ دیارِ خواجہ ہو یا درِ فرید الدّین
تیرگی میں رہ کربھی روشنی میں رہتا ہے
اس لۓ بساتے ہیں گُل کو وگ دامن میں
— Khalid Mehmood Khalid\
