ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب
ہیں صفاتِ حق کے نوری آئینے سارے نبی
کب ستارا کوئی چمکا سامنے خورشید کے
آپ ہی کے نور سے تابندہ ہیں شمس و قمر
قبر کا ہر ذَرَّہ اِک خورشیدِ تاباں ہو ابھی
کوچۂ پُرنور کا ہر ذَرَّہ رَشکِ مہر ہے
رُوسیہ ہوں منہ اُجالا کر مرا جانِ قمر
نَیّرِ چرخِ رِسالت جس گھڑی طالع ہوا
آپ نے جب مشرقِ اَنوار سے فرمایا طلوع
ظلمتِ شب مٹ گئی جب آپ جلوہ گر ہوئے
تم نے مغر ب سے نکل کر اِک قیامت کی بپا
آفتابِ ہاشمی تو غرب سے طالع ہو پھر
حق کے پیارے نور کی آنکھوں کے تارے ہو تمہیں
زُلفِ والا کی صفت وَاللَّیْل ہے قرآن میں
ظلمتیں سب مٹ گئیں ناری سے نوری ہوگیا
ظلمتوں پر ظلمتیں ہیں میرے مولیٰ قبر میں
مہر فرما مہر سے عصیاں کی ظلمت محو کر
نور سے معمور ہو جائے مرا سینہ اگر
اِک اشارے سے قمر کے تم نے دو ٹکڑے کئے
نور کی سرکار ہے تو بھیک بھی نوری ملے
— Mustafa Raza Khan Noori\
