میں بے نیازہوں دنیا کے ہر خزانے سے
بہت ہی سونی تھی، بےکیف تھی خدا کی قسم
ملا ہے منزل قوسین کا نشاں مجھ کو
گداۓبےسرو ساماں ہوں آل کا صدقہ
گناہ گار ہوں، نسبت مگر منور ہے
ہمارے سرپہ ہے دامانِ رحمت عالم
زہےنصیب بھکاری اسی کا ہے خالد
میری زندگی کا حاصل ترےدرکی چاکری ہے
جنت کبھی بھی میں نے مانگی نہیں خداسے
سرکارکے گدا کی اللہ رہےبے نیازی
طیبہ میں ایک کٹیا جس کو بھی مل گئ ہے
اک نام ہے انہی کا جس کےہیں چرچےناصؔر
— Unknown
