میں بہک سکوں یہ مجال کیا میرا رہنما کوئی اور ہے
جو تمہاری جالی سے متصل ہے ستوں کے پیچھے کھجل کھجل
میری التجا ہےیہ دوستو کبھی تم جو سُوۓ حرم چلو
ہے تجھے خبر شہہ این و آں میری وجہ راحتِ قلب و جاں
یہ گمان تھا کئ سال سے یہ یقین ہے کئ روز سے
وہ حبیب ربِ کریم ہےوہ روف ہے وہ رحیم ہے
میں جو دور ارض حرم سے تھا ہوئی خلدِ گوش حسیں صدا
— Unknown
