میں مکّے میں پھر آگیا یاالٰہی
نہ کر رَد کوئی اِلتجا یاالٰہی
رہے ذِکر آٹھوں پَہَر میرے لب پر
مِری زندگی بس تری بندگی میں
نہ ہوں اَشک برباد دنیا کے غم میں
عطا کردے اِخلاص کی مجھ کو نعمت
مجھے اولیا کی مَحبَّت عطا کر
میں یادِ نبی میں رہوں گم ہمیشہ
مِرے بال بچوں پہ سارے قبیلے
دے عطّاریوں بلکہ سب سُنّیوں کو
خدایا اجل آکے سر پر کھڑی ہے
مری لاش سے سانپ بچّھو نہ لپٹیں
تو عطارؔ کو سبز گنبد کے سائے میں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
