میں تو پنجتن کا غلام ہوں
مجھے عشق سرو ثمن سے ہے
میرا شعر کیا میرا ذکر کیا
میری فکر ان کے طفیل سے
مجھے عشق ہے تو خدا سے ہے
میں قمؔر ہو ساغر بے نوا
— Unknown
Manqbat lyrics in praise of Ahl al-Bayt
میں تو پنجتن کا غلام ہوں
مجھے عشق سرو ثمن سے ہے
میرا شعر کیا میرا ذکر کیا
میری فکر ان کے طفیل سے
مجھے عشق ہے تو خدا سے ہے
میں قمؔر ہو ساغر بے نوا
— Unknown
نکھرے ہوۓ کردار کا قرآن ہے سجادؑ
یہ شہر فضائل ہے مسائب کا جہاں ہے
ہر دور میں احساس کی معراج ہے سجادؑ
جب تک ہے جہاں میں حق و باطل کا فسانہ
سجاد کی آہٹ سے لرزتی رہی شاہی
سجاد کی ہیبت سے اجل ڈول رہی ہے
سجاد کی صورت ہے کہ قرآن کی سورۃ
جب ظلم کبھی دہر کو برباد کرےگا!
آواز سلاسل سے کئی حشر جگاۓ
سجاد نے اسلام کی تقدیر جگا دی
اے آدمِ سادات و نشان رخ حسنینؑ
انبوہ الم میں بھی مناجات صمد ہے
اے قافلہ سالارِ غریباں، مرے سردار
دنیا ہے فدا چاند کی ادنیٰ سی جھلک پر
ہے صبح کا تارا کہ ترا آخری آنسو
شبنم نے جو پتوں کے کبھی چاک سیے ہیں
— Mohsin Naqvi\
نقش دل پر بٹھا گۓ طاہر
پھررہا تھا میں در بدر اب تک
پارہ پارہ دل شکستہ تھا
در پر جو آیا طالب عرفاں
ان کے در سے ہوا جو وابستہ
گلشن غوث ہے در طاہر
جو چلا نقش پاۓ طاہر پر
کرو قائم نماز اے لوگو
رکھ دیا اپنے قلم کو صابر نے
— Sabir\
غوثِ اعظم شاہِ جیلاں منجدار میں نَیا ہے
میں بھی رحم کے قابِل ہوں دُکھ درد کا مارا ہوں
خاک چیز پے شاہِ جیلاں رحمت کی نظر کری او
— Unknown
نئیں جاندا زمانہ عظمت صدیق دی
سب کج نصار کیتا چھڈی سوئی وی نئیں
عرشاں دا لاڑا ڈھوکیا ویڑے صدیق دے
ساڈے جسم چ شاکر نئیں خون غیر دا
— Unknown
عشق علی ہے پیار علی ہے
احمد ہیں اعتبار خدا کا
کس کے نکاح میں دوں یہ زہرۂ
باطل کے جو ٹکڑے کر دے
— Unknown
کس زباں سے ہو بیاں مدح وشانِ اہلِ بیت
ان کی پاکی کا خداۓ پاک کرتا ہے بیاں
بے اجزت اُن کے گھر جبریل بھی آتے نہیں
رزم کا میداں بنا ہے جلوہ گاہِ حسن وعشق
کِس مزے کے لذتیں ہیں آبِ تیغ یار میں
گھر لُٹانا سر کٹانا کوئی تجھ سے سیکھ لے
اہل بیت پاک سے گستاخیاں بے باکیاں
بے ادب گستاخ لوگوں کو بتا دے اے حسنؔ
— Unknown
غوثِ اعظم دستگیر اللہُ غنی
منگتوں کو مختار بنایا چوروں کو ابدال
مولا علی کے آپ ہیں پیارے ولیوں کے سردار
ڈوبی ہوئی کشتی کو نکالا جس میں تھی بارات
جس نے اُن کا نام لیا ہے اُس کا بیڑا پار
میں عاصی منگتا ہوں تمہارا دکھیوں کے غمخوار
— Unknown
سرکار غوثِ اعظم نظرِ کرم خدارا
سب کا کوئی نہ کوئی دنیا میں آسرا ہے
جھولی کو میری بھر دو ورنہ کہے گی دنیا
یہ اداۓ دستگیری کوئی میرے دل سے پوچھے
صدیق عمر کا صدقہ عثمان علی کا صدقہ
گنجِ شکر کا صدقہ احمد رضا کا صدقہ
یہ تیرا کرم ہے مرشد جو بنا لیا ہے اپنا
— Unknown
خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوثِ اعظم کا
ہماری لاج کِس کے ہاتھ ہے بغداد والے کے
ہُوا موقوف فوراً ہی برسنا اہلِ مجلس پر
فرشتے مَدرَسے تک ساتھ پہنچانے کو جاتے تھے
عزیزو کر چُکو تیار جب میرے جنازے کو
نِدا دے گا مُنادی حشر میں یوں قادریوں کو
رسولُ اللہ کا دشمن ہے غوثِ پاک کا دشمن
— Jamil Ur Rehman Qadri\