نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
وہ گھر سے نکل کر مدینے کے باہر
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
جدھر دیکھۓ موت کا ہے اندھیرا
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
عتیق ابنِ حیدر کے سینے میں غم ہے
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
— Unknown
Manqbat lyrics in praise of Ahl al-Bayt
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
وہ گھر سے نکل کر مدینے کے باہر
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
جدھر دیکھۓ موت کا ہے اندھیرا
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
عتیق ابنِ حیدر کے سینے میں غم ہے
نبیؐ کے نواسے حسینؑ ابنِ حیدرؑ
— Unknown
اللہ کی رضا ہے محبت حسینؑ کی
جب کربلا میں آئے دُلارے بتول کے
اک زخم دل پہ اور بھی گھیرا لگا دیا
زینب نے جب نگاہوں سے دیکھا یہ ماجرا
مانا کہ یہ تمہاری بہن کے قرار ہیں
زینبؑ کی بات سُن کے شہہِ دین رو دیے
زینبؑ تمہارے لعل لہو میں نہائیں گے
یا حسینؑ ابنِ علیؑ ، یا حسینؑ ابنِ علیؑ
اسغر علی بھی راہ باغِ ارم ہوئے
زہرہؑ کا صبرچھِن گیا حیدرؑ کا گھر لٹا
اِک درد سے امام کا چہرہ اداس ہے
شیرِ خدا کے شیر کی حالت عجیب ہے
بیمار نونہال کو بستر پہ چھوڑ کر
جی جاں ہی عزیز نہ راحت عزیز تھی
دریا بہا جو فوج کہ پیاسے کو دیکھ کر
اُس خون کو فرشتوں نے دامن میں لے لیا
زخموں سے چُور ہو گئے جو مرتضیٰ کے لعل
اس طرح پورا ہو گیا تقدیر کا لکھا
یا حسینؑ ابنِ علیؑ ، یا حسینؑ ابنِ علیؑ
— Unknown
سلطانِ کربلا کو ہمارا سلام ہو
عباسِ نامدار ہیں زخموں سے چور چور
اکبر سے نوجوان بھی رن میں ہوۓ شہید
بھائی، بھتیجے، بھانجے سب ہو گئے نثار
اصغر کی ننھی جان پہ لاکھوں درود ہوں
ہو کر شہید قوم کی کشتی ترا گئے
ناصؔرولائے شام میں کہتا ہے باربار
— Unknown
زہرہ کے لاڈلوں کا ہے بڑا سخی گھرانہ
بگڑی ہوئی جہاں کی قسمت کو یہ سنواریں
ایسا جہان میں ہےبس ایک آستانہ
سردار قدسیوں کے بن کر فقیر آئیں
آتا ہے قاتلوں کو شربت انہیں پلانہ
جنت سے سِل کے جوڑے ان لاڈلوں کے آئیں
اونچا حسب نسب ہے اور ٹھاٹھ ہے شہانہ
— Unknown
لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا
یہ بِل یقیں حسینؑ ہے نبی کا نور عین ہے
یہ کون حق پرست ہے، مئے رضائے مست ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حسین ہے حسین ہے ، نبی کا نُورِ عین ہے
حسین ہے حسین ہے ، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ بالیقیں حسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حسین ہے حسین ہے ، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ بالیقیں حسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ جسکی ایک ضرب سے، کمالِ فنِّ حرب سے
یہ بالیقین حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ بالیقین حسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
— Hafeez Jalandhari\
کلمے دے وارثاں نوں ، میرا سلام ہووے
بھاویں نہ لبھیا پانی ، شکوہ زرا نہیں کیتا
آل نبی دی عظمت ، بچیاں نوں جو سکھاندی
دسیا جنھاں نیں سانوں ، زھرا دے گھر دا رتبہ
کلمے دے وارثاں نوں ، میرا سلام ہووے
— Unknown
ؓتیری ہستی خامئہ قُدرت کا شہکارِ جلیمیں بتاؤں خانہ کعبہ میں کیوں پَیدا ہُوا
بطنِ مادر میں ہی تُو توحید کا شَیدا ہُواتیراہر لمحہ رہا شاہِ رُسل کے سائے میں !
جِس طرح خُوشبُو چَڑھے پروان گل کے سائے میںساتھ رکھتے تھے مِرے آقا محاذوں پر تجھے
کیوں نہ مانوں قوّتِ بازو ئے پیغمبر تجھےناز ہر میداں کو تھا تیری ادائے حَرب پر
سینکڑوں سجدے فِدا تلوار کی اِک ضرب پرمَعرفت کا گھر تِرا دِل ، مسکنِ حکمت دماغ
ہاتھ میں اِسلام کے ، تیری بصیرت کے چراغایک منزل کے مسافر، صُوفیوں کے سلسلے
سب جُدا رستوں پہ نِکلے سب ہی تُجھ سے جا ملےتیری چو کھٹ پر زمانے بھر کے اَن داتا گِریں
تُو ہے وہ گہرا سمندر جس میں سب دریا گِریںتیرے قاتل کی عداوت اپنے ہاتھوں مر گئی
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
تری حیات ، برائے خدا برائے رسولؐشہاب حق کہوں یا دین کی اٹھان کہوں
ایک اِک لفظ محمّد ؐ کا نِصابِ صدّیقجنبشِ چشمِ رسالت فرسِ عبداللہ
اُکھڑے ہوئے پڑے تھے وہ خیموں کے سامنےپانی کے ایک گُھونٹ کی قیمت تھی زندگی
لگ ہی گیا ہجوم دکانوں کے سامنےٹوٹا ہوا پڑا تھا غرورِ یزیدیت
شہزادگانِ دین کی لاشوں کے سامنےحورانِ خلد کوثر و تسنیم لائی تھیں
اللہ کی رضائیں تھیں پیاسوں کے سامنےصبر حسین اصل میں معراجِ صبر تھا
لاشوں کے ڈھیر لگ گئے آنکھوں کے سامنےان کے سروں سے چادریں تک چھین لی گئیں
نکلیں نہ رات کو بھی جو تاروں کے سامنےمنظور تھا یہی مرے پروردگار کو
انساں سے کتنا خوش تھا فرشتوں کے سامنےبجھ کر بھی جگمگا دیا سارے جہان کو
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں