میرے اللہ کے نگار سلام
دونوں عالم کے تاجدار سلام
نکہت ہر چمن ہزار سلام
خاکِ طیبہ بنے مری ہستی
شوقِ پیہم کی التجا سن لو
پھر مدینے میں کب بلائو گے
مجھ کو ظالم پہ اختیار نہیں
خلد کہتی ہے یوں مدینے سے
موتیوں کو سجا کے پلکوں پر
اپنی الفت کا ایسا جام پلا
دردِ الفت میں دے مزہ ایسا
دل کی دھڑکن تمہاری یاد بنے
تیری خاطر ذلیل ہونا ہے
اپنے اخترؔ کا لو سلام شہا
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
