میری ہرسانس کےہرورق پہ انؐ کااسمِ گرامی لکھا ہے
یادِ طیبہ کی مشعل جلی ہے،وجد میں شاخِ دل پر کلی ہے
میرے آنگن کے پیڑوں پہ اکثراک دھنک سی اترتی رہی ہے
ظلمت شب کی کوئی شکایت حشر تک اب نہیں کرسکے گا
ان کےجلوؤں کی سوغات ہے یہ،ان کےقدموں کی خیرات ہےیہ
حشرکےبعد بھی ہرحوالہ معتبرنامِ نامی سےہوگا
ساعتیں بھی درودوں کے گجرے شام ہی سے بناتی رہی ہیں
موجِ طوفاں کہ سر پرکھڑی ہے، شامِ اُفتادبھی آپڑی ہے
شاعرِ بےنوا یا محمدؐ! منتظر ہے نگاہِ کرم کا
— Riaz Hussain Chaudhary\
