ملتا ہے کیا مدینےمیں اک بار جا کے دیکھ
اُن کی گلی میں مانگتےپھرتےہیں تاجدار
خیرات دے کے کہتے ہیں منگتے کی خیرہو
دُھل جائیں گے گناہ تیرے ہوجاۓ گا کرم
اے چشمِ کوہِ طور کی ہے آرزو تجھے
آزاد ہونا ہے اگر ہرغم کی قید سے
واصفؔ تیری نجات کاہے راستہ یہی
— Unknown
