محبتوں کا اُجالا اگر کہیں پر ہے
فروغ فصلِ بہاراں اسی چمن سے ہے
مرے لیے وہ کفِ دستِ مہرباں ہے بہت
رداۓ بارِ امانت کے بعد بھی اب تک
غلامی شہِ بطحا مرا تعارف ہے
— Ghulam Rasool Zahid\
محبتوں کا اُجالا اگر کہیں پر ہے
فروغ فصلِ بہاراں اسی چمن سے ہے
مرے لیے وہ کفِ دستِ مہرباں ہے بہت
رداۓ بارِ امانت کے بعد بھی اب تک
غلامی شہِ بطحا مرا تعارف ہے
— Ghulam Rasool Zahid\