محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا
یہی ہے اصل عالم مادّہ ایجادِ خلقت کا
گدا بھی منتظر ہے خلد میں نیکوں کی دعوت کا
گنہ مَغفُور، دل روشن، خنک آنکھیں ، جگر ٹھنڈا
نہ رکھی گل کے جوشِ حسن نے گلشن میں جَا باقی
بڑھا یہ سِلسلہ رحمت کا دَورِ زلفِ والا میں
صَفِ مَاتَم اُٹھے، خالی ہوزِنداں ، ٹوٹیں زَنجیریں
سکھایا ہے یہ کس گستاخ نے آئینہ کو یارب
اِدھر ُامّت کی حسرت پر اُدھر خالق کی رحمت پر
بڑھیں اِس دَرجہ موجیں کثرتِ اَفضالِ والا کی
خَمِ زُلفِ نبی ساجد ہے محرابِ دو اَبرو میں
مدد اے جوشِشِ گِریہ بہا دے کوہ اور صحرا
ہوئے کَمخوابیَ ہِجراں میں ساتوں پردے کمخوابی
یہاں چھڑکا نمَک وَاں مَرْہمِ کافور ہاتھ آیا
الہٰی منتظر ہوں وہ خِرامِ ناز فَرمائیں
نہ ہو آقا کو سجدہ آدَم و یوسُف کو سجدہ ہو
زَبانِ خار کِس کِس دَرد سے اُن کو سناتی ہے
سِرھانے ان کے بِسْمِل کے یہ بیتابی کا ماتَم ہے
جنھیں مر قد میں تا حشر اُ مّتی کہہ کر پکارو گے
وہ چمکیں بجلیاں یارب تجلّیہائے جاناں سے
رضاؔئے خستہ! جوشِ بَحرِ عصیاں سے نہ گھبرانا
یقیں ہے وَقْتِ جلوہ لغزشیں پائے نگہ پائے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
