مصطَفٰے کا وہ لاڈلا پیارا
غوث اعظم کی آنکھ کا تارا
سُنّیوں کے دلوں میں جس نے تھی
وہ حبیبِ خدا کا دیوانہ
اللہ اللہ تَبَحُّرِعِلمی
اہلِ سنّت کا ہے جو سرمایہ
علم و عِرفاں کا جو کہ ساگَر تھا
حق پہ مَبنی تھا جس کا ہر فتویٰ
اس کی ہستی میں تھا عمل جَوہر
جس نے دیکھا انہیں عقیدت سے
سنَّتوں کو جِلادیا جس نے
جو ہے اللہ کا ولی بے شک
جس نے اِحقاقِ حق کیا کُھل کر
سن لو کِلکِ رضا ہے وہ خنجر
پھر بریلی شریف جاؤں میں
مولا بَہرِ ’’حدائقِ بخشش‘‘
— Unknown
