فضلِ رب العلیٰ اور کیا چاہیے
دامنِ مصطفیٰ جس کے ہاتھوں میں ہو
ان کے دربار میں حاضری ہوگئی
گنبدِ سبز خوابوں میں رہنے لگا
بھیک کے ساتھ ہی انکے دربار سے
یہ جبیں اور ریاض الجنہ کی زمیں
ہے سکندرؔ ثناء خوانِ شاہِ امم
— Unknown
فضلِ رب العلیٰ اور کیا چاہیے
دامنِ مصطفیٰ جس کے ہاتھوں میں ہو
ان کے دربار میں حاضری ہوگئی
گنبدِ سبز خوابوں میں رہنے لگا
بھیک کے ساتھ ہی انکے دربار سے
یہ جبیں اور ریاض الجنہ کی زمیں
ہے سکندرؔ ثناء خوانِ شاہِ امم
— Unknown
نگاہِ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں
ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا
تمہاری اک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
جو سر پہ رکھنے کو مل جاۓ نعلِ پاک حضور ﷺ
ادھر بھی تو سن اقدس کے دو قدم جلوے
ہماری بگڑی بنی ان کے اختیار میں ہے
حسن ہے جن کی سخاوت کی دھوم عالم میں
— Unknown
ہم کو بلانا یارسول اللہ ہم کوبلانا یا حبیب اللہ
ہم کو بلانا یارسول اللہ ہم کو بلانا یا حبیب اللہ
دھڑک اٹھےگا یہ دل یا دھڑکنا بھول جاۓ گا
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ہم کوبلانا یاحبیب اللہ
ادب سے ہاتھ باندھےان کےروضے پرکھڑےہوں گے
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ہم کو بلانا یا حبیب اللہ
در دولت سےلوٹایا نہیں جاتا کوئی خالی
ہم کو بالا یا رسول اللہ ہم کو بلانا یا حبیب اللہ
برستی گنبد خضریٰ سے ٹکراتی ہوئی بوندیں
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ہم کو بلانا یا حبیب اللہ
گزارے رات دن اپنےاسی امید پر ہم نے
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ہم کو بلانا یا حبیب اللہ
دم رخصت من بھر کے ہیں محسوس کرتے ہیں
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ہم کو بلانا یا حبیب اللہ
— Unknown
کس بات کی کمی ہے مولیٰؐ تری گلی میں
جام سفال اس کا تاج شہنشاہی ہے
دیوانگی پہ میری ہنستے ہیں عقل والے
سورج تجلیوں کا ہردم چمک رہا ہے
موت اور حیات میری دونوں ترے لیے ہیں
امجد کو آج تک ہم ادنیٰ سمجھ رہے تھے
— Unknown
امیرِ خلد کا اعجاز دیکھوں
سرِ شبرِ نبیؐ الحمد للہ
جونہی پلکوں پہ آنسو جھلملائیں!
اَڑوں خوابوں میں طیبہ کی فضا میں
درخشاں رخ، چمکتی سی جبینیں
میں جب الجھوں کسی الجھن میں راسخ
— Rasikh Irfani\
اگر کملی والے کی رحمت نہ ہوتی تو قسمت کے ماروں کا کیا حال ہوتا
وہ آقا وہ مولا وہ داتا ہمارے خدائی کے پیارے خدا کے دُلارے
نہ یہ پھول کھلتے نہ کلیاں مہکتیں نہ گلزار ہنستے نہ گلیاں مہکتیں
محمد ﷺ کا جلوہ ہے جلوہ خدا کا محمد ﷺ کا پردہ ہے پردہ خدا کا
کسے حال دل اپنا انورؔ سناتے کہاں پھر اماں اہلِ توحید پاتے
— Unknown
پہنچ ہی جائیں گے اک دن کسی قرینے سے
حضورؐ پاس بلا لیجۓ خدا کے لیے
نثار میرے دل و جاں ربیع الاول پر
یہاں کی خاک کے ذرے ہیں عطر پیراہن
محمدؐ عربی ناخدا ہیں اے راغب!
— Raghib Muradabadi\
ہرزباں پہ چرچا ہے ان کے آستانے کا
بھیک لے کے آقا سے چاند مسکراتاہے
آقا نے غلاموں کو اس لئے بلایا ہے
ان کی پیاری یادوں سے اشک اشک آنکھیں ہیں
عکس میری آنکھوں میں دیکھ لو مدینے کا
دربدرنہیں جاتا ان سے مانگنے والا
صائم اور رضا حامی ان کے سب ہیں دیوانے
— Unknown
مرا دل اور مری جان مدینے والےؐ
تیرا در چھوڑ کے جاؤں تو کہاں میں جاؤں
بھردے بھردے مرے داتا مری جھولی بھردے
آڑے آئی ہے تری ذات ہر اک دکھیا کے
پھر تمناۓ زیارت نے کیا دل بے چین
سگِ طیبہ مجھے سب کہہ کے پکاریں بیدم
— Bedam Shah Warsi\
جمالِ ذات ہے نور محمدؐ عربی
دلکلیم ہے اس کے کلام سے روشن
خود آگہی کا سبق معرفت محمدؐ کی
شہنشی کی جلالت الوہیت کا شکوہ
یہ انبیا کی تجلی یہ اولیاء کا جمال
وہی ہے لشکرِ توحید کا مزاج شناس
رباب کن کی ہے آواز بازگشت رئیس
— Raees Amrohvi\