کوئی سلیقہ ہے آرزو کا
کسی کا احسان کیوں اٹھائیں
تجلیوں کے کفیل تم ہو
تمہی ہو روحِ روانِ ہستی،
شعور و فکر و نظر کے دعوے
نظر نظر رحمت سراپا
عمل میں میرے اساس کیا ہے
عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت
انہی کے در سے خدا ملا ہے
— Unknown
کوئی سلیقہ ہے آرزو کا
کسی کا احسان کیوں اٹھائیں
تجلیوں کے کفیل تم ہو
تمہی ہو روحِ روانِ ہستی،
شعور و فکر و نظر کے دعوے
نظر نظر رحمت سراپا
عمل میں میرے اساس کیا ہے
عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت
انہی کے در سے خدا ملا ہے
— Unknown
کوہِ فاراں پہ خورشیدِ غار حرا، جب ہوا جلوہ گر دیکھتے دیکھتے
آرزوۓ خلیل آج پوری ہوئی، کائناتِ دل و روح نوری ہوئی
زیست صحرا تھی صحرا سے گلشن ہوئی، شمع عرفان وایقاں کی روشن ہوئی
روحِ انساں سقیم اور بیمار تھی، رہنِ اوہام تھی، وقفِ آزار تھی
دیکھتے دیکھتے انقلاب آگیا، پھول مہکے چمن پر شباب آگیا
شرق سے غرب تک شور برپا ہوا، ایک امی لقب شہر علم آگیا
جس طرف سے بھی گزرے شہِ حشم جس نے بھی سرور دیںؐ کے چومے قدم
واپس آۓ تو بستر ابھی گرم تھا اور زنجیرِ درمیں تھی جنبش ابھی
جس کو کہتے ہیں سب لوگ شہرِ نبیؐ، روکشِ خلد ہے جس کی ایک اک گلی
کملی والے کا یزدانی احسان ہے ابنِ آدم پہ بارانِ فیضان ہے
— Yazdani Jalandhari\
رب نے فریاد کو پُر اثر کردیا
دھوپ میں چھاؤں بننے کی توفیق دی
راہرو جس جگہ کوئی چلتا نہ تھا
رہ میں تاریک جنگل تھا اور آپؐ نے
سب کی آنکھیں تو تھیں پر بصیرت نہ تھی
ٹیلوں ٹبوں کے کنکر تھے انسان بھی
آپؐ نے اپنے اخلاق و کردار سے
داد اہلِ سخن سے ملی ہے مجھے
— Mohsin Sheikh\
کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول ﷺ کی
چلتا ہوں میں بھی قافلے والو رکو ذرا
پوچھیں جو دین و ایماں نکیرین قبر میں
جنت تو ان کے صدقے میں مل جاۓ گی مگر
یا رب دکھا دے آج کی شب جلوۃ حبیب
قبر میں سرکار آئیں تو میں قدموں میں گروں
تڑپا کے ان کے قدموں میں مجھ کو گرا دے شوق
تو ہے غلام اُن کا عبیدِ رضا تیرے
— Ubaid Raza\
میں میلی تن میلا میرا کرپا کرو سرکار
در در جانا دُر دُرہونا یہ بھی ہے ایمان
میرے کھویا بیچ بھنور میں کشتی ڈوبی جاۓ
مجھ منگتے کی بات ہی کیا ہے وہ ہیں بڑے لجپال
ان کی عطا کے سب گن گاؤ ان سے ہی فریاد کرو
ان کی یاد ایمان بنا لو خود کو ہی قرآن بنا لو
ان کے کرم کی آس ہے مجھ کو میں تو نہیں مایوس
کچھ تو میری آس بندھا دو تن من ہے بے چین
اس کے لۓ تو سرمایہ پیار مدینے والے کا
— Khalid Mehmood Khalid\
باغِ دو عالم دم سے تمہارے ہے گلزار رَسُوْلُ اللہ
تم ہو حشر کے راج دُلارے نورِ الٰہی عرش کے تارے
مولیٰ تم نے ہمارے غم میں شب بھر روکر کی ہیں آہیں
بھولی بھیڑیں ہم ہیں تمہاری چاروں طرف ہیں گرگ شکاری
ہائے نہ کی کچھ ہم نے کمائی لہو و لعب میں عمر گنوائی
چاہو بگاڑو یا کہ سنبھالو چاہو ڈباؤ یا کہ نکالو
مولیٰ چشم و قلب میں آجا لِلّٰہ بختِ سیہ چمکا جا
کرکے شفاعت تم بخشاؤ دامن ڈھک کر عیب چھپاؤ
راہ کٹھن اور دُور ہے منزل سر پر عصیاں پاؤں ہیں گھائل
کھول دو گیسو برسے رحمت دُھل کر عصیاں پاک ہو امت
ڈُوبا ہوا سورج پلٹا یا چاند کو ٹکڑے کرکے دکھایا
چاہو جسے فردوس میں جا دو چاہو جسے دوزخ میں بھیجو
خود ہی خدا نے تم کو پڑھایا علم نہ تم سے کوئی چھپایا
آج جمیلؔ قادری دِل سے ذِکر اپنے آقا کا کرلے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
لکھ رہا ہوں نعتِ سرور سبز گنبد دیکھ کر
ہے مقدر یاوری پر سبز سبز گنبد دیکھ کر
مسجدِ نبوی پہ پہنچے مرحبا صلِ علیٰ
آپ سے بس آپ ہی کو مانگتا ہے یا نبی ﷺ
دھوپ روزانہ مدینہ چومتی ہے جھوم کر
آہ اے عطارؔ تجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
جو کسی عطا نے خطا کے داغ تمام عمر کے دھو دیے
چلے قافلے لیے آبلے، بڑھے حوصلے گھٹے فاصلے
تھیں عزیز جاں سے جو منزلیں تو عزیز تر رہیں مشکلیں
کبھی جستجو کبھی گفتگو کبھی کوبکو کبھی روبرو
کبھی دیکھنا، کبھی بھیپنا، کبھی مانگنا، کبھی سوچنا
وہ درِ کرم ، وہ رہِ نعم، وہ شب حرم وہ وفورِ نم
وہی بے کلی، وہی تشنگی، وہی بے بسی، وہی خستگی
یہ عیاں ہے آصفِ ناتواں، ترے دل میں درد ہےاک نہاں
— Asif Akbar\
آپؐ کی بات کیا کہ ہیں دونوں جہاں کے بادشاہ
آپؐ کی ذات پاک سے دونوں جہاں میں روشنی
پستہ قدوں کا رخ ہوا گنبدِ سبز کی طرف
کرنے ہیں کیسے ح ہمیں ہیں جو ہمارے مسئلے
ہم کہ ہیں بے بساط لوگ ہم کیا ہماری شان کیا
گاؤں بھی آپؐ کے تمام، شہر بھی آپؐ کے تمام
رہتی ہے ساری کائنات آپؐ ہی کے حصار میں
کس کو پکارتے کہ ہے جاۓ پناہ کوئی اور؟
دشتِ دل حنیف پر چھائی ہوئی ہے تیرگی
— Muhammad Haneef\
صدا میں ستارہ ستارہ کروں
دل وجاں سے نعتِ نبیؐ میں سنوں
کِھلا ان گلوں میں محمدؐ کا نام
خدا کی طرف سے بشارت ملے
میں اشکوں کی صورت نظر در نظر
جگر سبز پتی سے کاٹوں اگر
لکھوں نعت ثاقب عقیدت بھری
— Asif Saqib\