یہ بھی سفر عجیب تھا کیسی شعاع دی گئی
خواب میں رات کیا ہوا، میں ہی گداۓ خاص تھا
کیسے پرو دیے گۓ ایک لڑی میں لعل و سنگ
جب کبھی بعدِ مدعا صلِ علیٰ پڑھا گیا
ورنہ میں شرمسار تھا اپنے بدن کے ننگ پر
میرے ہنر ہی سے کہیں میرے نبیؐ خفا نہ ہوں
— Afzal Khan\
یہ بھی سفر عجیب تھا کیسی شعاع دی گئی
خواب میں رات کیا ہوا، میں ہی گداۓ خاص تھا
کیسے پرو دیے گۓ ایک لڑی میں لعل و سنگ
جب کبھی بعدِ مدعا صلِ علیٰ پڑھا گیا
ورنہ میں شرمسار تھا اپنے بدن کے ننگ پر
میرے ہنر ہی سے کہیں میرے نبیؐ خفا نہ ہوں
— Afzal Khan\
کیا کریں محفلِ دِلدار کو کیونکر دیکھیں
تابِ نظارہ تو ہو یار کو کیونکر دیکھیں
دِلِ مردہ کو تِرے کوچہ میں کیونکر لے جائیں
جن کی نظروں میں ہے صحرائے مَدینہ بلبل
عوضِ عفو گنہ بکتے ہیں اِک مجمع ہے
ہم گنہگار کہاں اور کہاں رُویتِ عرش
اَور سرکار بنے ہیں تو انہیں کے دَر سے
دَستِ صیاد سے آہو کو ُچھڑائیں جو کریم
تابِ دِیدار کا دعویٰ ہے جنہیں سامنے آئیں
دیکھئے کوچہ محبوب میں کیونکر پہنچیں
اہلکارانِ سقر اور ارادہ سے حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
جو مدینے کے تصوُّر میں جِیا کرتے ہیں
عشقِ سرور میں جو ہستی کو فنا کرتے ہیں
مال ودولت کی دعا ہم نہ خدا کرتے ہیں
آگ دوزخ کی جلا ہی نہیں سکتی ان کو
دُرِّ نایاب بِلاشک ہیں وہ ہیرے انمول
درد وآلام میں تسکین انہیں ملتی ہے
تُو سلام اُن سے درِ پاک پہ جاکر کہنا
کیوں پھریں شوق میں ہم مال کے مارے مارے
سنّتوں کی وہ بنے رہتے ہیں ہر دم تصویر
سنّتوں کے اے مبلّغ! ہو مبارَک تجھ کو
آپ کی گلیوں کے کتّوں پہ تصدُّق جاؤں
سُن لو! نقصان ہی ہوتا ہے بالآخر ان کو
بِالیقیں ایسے مسلمان ہیں بے حد نادان
چاند سورج کا مقدَّر بھی تو دیکھو اکثر
جِھلِملاتے ہوئے تاروں کی بھی قسمت ہے خوب
مسجدِ نبوی کے پُر نور مَنارے ہر دم
جھوم کر آتے ہیں بارِش لئے بادَل جب بھی
بامقدَّر ہیں مدینے کے کبوتر بے شک
رشک عطارؔ کو ان ذَرَّوں پر آتا ہے جو
قابلِ رشک ہیں عطارؔ وہ قسمت والے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
رنگینیئے گلاب نہ گلزار چاہیے
دنیا نہ مجھ کو مال کا انبار چاہیے
کعبہ کی عظمتیں مجھے تسلیم ہیں مگر
یہ آرزو ءِدل ہے اب یوں ادا نماز ہو
ہے خلد کی طلب نہ کسی حور سے غرض
اُن کا گنہگار کو تو چاہیے کرم
— Unknown
یہ وہ در ہے کہ جہاں دل نہیں توڑے جاتے
یہ ہے آقاﷺ کی عنایت وہ کرم کرتے ہیں
شہر سرکارﷺ کی خاک کے ہم ذرے ہوتے
انکی دہلیز کے منگتے بڑی موج میں ہیں
اپنا مدفن جو مقدر سے بن جاتا بقیع پاک
— Unknown
دنیا کو بدلنے آپؐ آۓ
حاوی ہیں تمام معجزوں پر
اپنے ہیں مکہ اور مدینہ
آقاؐ سے سخن کی یہ گھڑی ہے
کیسے تھے چاند اور سورج
— Imitaz Ul Haq Imtiaz\
خموشیوں میں سلیقے، صدا کے رکھے ہیں
فلک کی آکھ بھی طیبہ کو رشک سے دیکھے
وہ ان کے پیار کی شبنم سے پا رہے ہیں نمو
نثار ہونا ہے ان کو سنہری جالی پر
ہمیشہ نور کی بارش مرے مدینے میں
عمل کا شوق عطا ہو کہ ہر سمت میں
مرے حضورؐ کی مسجد کا صحن، گنبدِ پاک
— Noreen Talat Arooba\
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
رحم کی سرکار میں پرسش ہے ایسوں کی بہت
تیرہ دل کو جلوۂ ماہِ عرب دَرکار ہے
کچھ خبر ہے میں برا ہوں کیسے اچھے کا برا
اس گلی سے دُور رہ کر کیا مریں ہم کیا جئیں
اُن کے دَر کی بھیک چھوڑیں سروَری کے واسطے
خاک اُن کے آستانے کی منگا دے چارہ گر
سایۂ دیوارِ جاناں میں ہو بستر خاک پر
دَردِ عصیاں کی ترقی سے ہوا ہوں جاں بلب
ذَرَّۂ طیبہ کی طلعت کے مقابل اے قمر
موسم گل کیوں دکھائے جاتے ہیں یہ سبز باغ
بیکسوں پر مہرباں ہے رحمتِ بیکس نواز
بندۂ سرکار ہو پھر کر خدا کی بندگی
رُوسیہ ہوں منہ اُجالا کر دے اے طیبہ کے چاند
خار ہائے دشتِ طیبہ چبھ گئے دل میں مِرے
صبحِ محشر چونک اے دل جلوۂ محبوب دیکھ
اُن کے دَر پر موت آ جائے تو جی جاؤں حسن ؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
رُخ سے کاکَل ہٹا دیا تونے
شب کو ملنے کی دے کے اِک امید
رُخ زیبا کی اک جھلک سے حبیب
کوئی ارمان اب نہیں باقی
نہ رہی کچھ خبر سر و پا کی
میری باتوں پہ لوگ ہنستے ہیں
تاقیامت کبھی نہ اچھا ہو
کوئی آواز اب نہیں بھاتی
اپنے چہرے ایک درشن میں
کچھ نہیں یاد اب تو عَرَبی کو
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
جو سینے کو مدینہ اُن کی یادوں سے بناتے ہیں
جو اپنی زندگی میں سنّتیں اُن کی سجاتے ہیں
غمِ سَروَر میں رونے کا قرینہ یاالٰہی دے
جو دیدارِمحمد کی تڑپ رکھتے ہیں سینے میں
زمانہ جس کو ٹھکرادے، ہر اک دُھتکار دے ایسے
فدا میں کیوں نہ ہو جاؤں ، نبی کی شانِ رحمت پر
جب اُن کے سامنے لال آمِنہ کا مسکراتا ہے
بِاِذنِ اللہ ساری نعمتوں کے ہیں وُہی قاسم
مدینے کی تمنّا میں جئے جاتے ہیں دیوانے
حسدکی آگ میں جل بُھن کے شیطاں خاک اڑاتاہے
خدا و مصطَفٰے ناراض ہوتے ہیں سنو ان سے
غلامو، مت ڈرو محشر کی گرمی سے چلے آؤ
نظارے ان کے آگے ہیچ ہوتے ہیں گلستاں کے
نہیں ہیں نیکیاں پلّے مگر گھبرا نہ اے عطّارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\