گنبدِ خضرا تک آہوں کی رسائی مل جاۓ
قابلِ رشک ہو میرے لیے دریوزہ گری
پا برہنہ ہو سفر سوۓ مدینہ میرا
کاش ایسا ہو مجھے خواب میں حسان ملیں
کوئی مضمون سجھائیں مجھے میرے آقاؐ
کیا کروں گا میں زمانے کی خدائی لے کر
— Rana Saeed Doshi\
گنبدِ خضرا تک آہوں کی رسائی مل جاۓ
قابلِ رشک ہو میرے لیے دریوزہ گری
پا برہنہ ہو سفر سوۓ مدینہ میرا
کاش ایسا ہو مجھے خواب میں حسان ملیں
کوئی مضمون سجھائیں مجھے میرے آقاؐ
کیا کروں گا میں زمانے کی خدائی لے کر
— Rana Saeed Doshi\
مدینہ کو جائیں یہ جی چاہتا ہے
جہاں دونوں عالم ہیں محوِ تمنا
محمد ﷺ کی باتیں محمد ﷺ کی سیرت
مدینے کے آقا ﷺ دوعالم ﷺ کے مولا
پہنچ جائیں ہاشم جب ہم مدینے
— Unknown
آہ! رَمضان اب جا رہا ہے
ٹکڑے ٹکڑے مرا دل ہوا ہے
دیکھ کر چاند میں رو پڑا تھا
جلد رخصت کا وقت آگیا ہے
اشک آنکھوں سے اب بہ رہے ہیں
وہ دلِ غمزدہ جانتا ہے
غم جدائی کا کیسے سہوں گا
آنکھ پُر نَم ہے دل رو رہا ہے
جاں فِدا تجھ پہ نانائے حَسنَین
دل پہ صدمہ بڑھا جا رہا ہے
کر کے تقسیم بخشِش کی اَسناد
سب کو روتا ہوا چھوڑتا ہے
تُو یہ کرنا خُدا سے سفارش
تجھ سے عطارؔ کی التِجا ہے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
دربارِ محمدﷺ میں جاکرپریشان کوئی بھی آتا نہیں
رب ہے معطی میں ہوں قاسم یہ فرمان ہے آقا کا
وہ حج کو ضائع کرتا ہےاور آقا پہ ظلم بھی کرتا ہے
جو شہر مدینے آتا ہے جو دید روضے کی پاتا ہے
سب کچھ ہی ان کے طفیل ملا اس دنیا میں مجھ کو یارو
یہ ثاقبؔ ان کا دیوانہ ہے یہ غیر کےدرپہ کیوں جاۓ
— Unknown
سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا
پیدائشِ محبوب کی شادی میں خدا نے
رحمت کا خزانہ پئے تقسیمِ گدایاں
خوشبو نے عنادِل سے چھڑائے چمن و گل
ہے حُسنِ گلوئے مہ بطحا سے یہ روشن
پردہ جو تِرے جلوۂ رنگیں نے اُٹھایا
اُس ماہ نے جب مہر سے کی جلوہ نمائی
اے مہر کرم تیری تجلی کی ادا نے
صدقے تِرے اے مرد مک دیدۂ یعقوب
ہم ڈوبنے ہی کو تھے کہ آقا کی مدد نے
اُمت کے کلیجہ کی خلش تم نے مٹائی
ان ہاتھوں کے قربان کہ ان ہاتھوں سے تم نے
اَرمان زَدوں کی ہیں تمنائیں بھی پیاری
یہ گردنِ پر نور کا پھیلا ہے اُجالا
گلزارِ براہیم کیا نار کو جس نے
دینی تھی جو عالم کے حسینوں کو ملاحت
قرآں کے حواشی پہ جلالین لکھی ہے
قربان ہوا بندگی پر لطف رِہائی
اے آہ مِرے دل کی لگی اور نہ بجھتی
مدفن نہیں پھینک آئیں گے اَحباب گڑھے میں
کیوں شور ہے کیا حشر کا ہنگامہ بپا ہے
لاکھوں تِرے صدقے میں کہیں گے دمِ محشر
جو بات لب حضرتِ عیسٰی نے دکھائی
منہ مانگی مرادوں سے بھری جیب دو عالم
کانٹا غمِ عقبے کا حسنؔ اپنے جگر سے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
میں نعتِ نبیؐ کے باب میں تھا
میں پڑھنے لگا درود اُن پر
پھر اذن ہنر عطا ہوا اور
اور کتنی ہی دیر تک مرا جی
حسان کے پیچھے پیچھے جائیں
— Rehman Hafeez\
میرے سرکار ﷺ ہر ویلے مدینہ یاد آندا اے
محمدؐ آکھیاں سینے وچ ٹھنڈ پیندی اے سونہہ رب دی
میرے سرکارﷺ ہر ویلے مدینہ یاد آندا اے
ہے دل بےتاب ہر ویلے مدینہ یاد آندا اے
میں چھڈآیاواں اپنے دل نوں آقا ﷺ دے قدماں وچ
میرے سرکار ہر ویلے مدینہ یاد آندا اے
اوہ گلزار ہر ویلے مدینہ یاد آندا اے
میں سارے روضے دے پر نور جلوے کیوں بھل جاواں
میرے سرکار ﷺ ہر ویلے مدینہ یاد آندا اے
— Unknown
آج ہیں ہر جگہ عاشِقانِ رسول
جشن، میلاد کا سب رہے ہیں منا
جشنِ میلاد سے عشق ہے پیار ہے
ماہِ میلاد میں خوب لہرایئے
آمدِ مصطَفٰے مرحبا مرحبا
سیکھنے سنّتیں، مسجد آؤ چلیں
یاد رکھنا سبھی چھوڑنا مت کبھی
رحمتِ کبریا تم پہ ہو دائما
تم پہ فضلِ خدا،رحمتِ مصطَفٰے
کاش! دنیا میں تم دو بَفَضلِ خدا
تم پہ ہو قبر میں ہر جگہ حشر میں
بے نمازی رہیں کچھ نہ روزے رکھیں
عالموں پر ہنسیں ،پَھبتیاں بھی کَسَیں
جو کہ گانے سنیں، فلم بِینی کریں
بد نگاہی کریں، بد کلامی کریں
کھائیں رزقِ حرام، ایسے ہیں بد لگام
عَہد توڑا کریں ، جھوٹ بولا کریں
جو ستاتے رہیں دل دُکھاتے رہیں
چغلیوں تہمتوں، میں جو مشغول ہوں
گالیاں جو بکیں عیب دریاں کریں
داڑھیاں جو مُنڈائیں کریں غیبتیں
کاش! عطاؔر کا طیبہ میں خاتِمہ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
وہ رفعت خیال ، وہ حسن بیاں نہیں
ان کا مقام سمجھے اور اظہار بھی کرے
پاس ادب ہے شرط متاع ہنر کے ساتھ
سرکار دو جہاں سا کوئی کائنات میں نہیں
وہ حسن ، جس سے مہرو مہ آسمان خجل
کردار وہ کہ اپنے پرائے امین کہیں
— Unknown
رحمت نہ کس طرح ہو ُگنہ گار کی طرف
جانِ جناں ہے دشت مدینہ تری بہار
اِنکار کا وُقوع تو کیا ہو کریم سے
جنت بھی لینے آئے تو چھوڑیں نہ یہ گلی
مونھ اس کا دیکھتی ہیں بہاریں بہشت کی
جاں بخشیاں مسیح کو حیرت میں ڈالتیں
محشر میں آفتاب اُدھر گرم اَور اِدھر
پھیلا ہوا ہے ہاتھ ترے دَر کے سامنے
گوبے شمار جرم ہوں گو بے عدد گناہ
یوں مجھ کو موت آئے تو کیا پوچھنا مرا
کعبے کے صدقے دل کی تمنا مگر یہ ہے
دے جاتے ہیں مراد جہاں مانگئے وہاں
روکے گی حشر میں جو مجھے پاشکستگی
آہیں دلِ اَسیر سے لب تک نہ آئی تھیں
دیکھی جو بے کسی تو اُنہیں رحم آگیا
بٹتی ہے بھیک دوڑتے پھرتے ہیں بے نوا
عالم کے دِل تو بھرگئے دولت سے کیا عجب
آنکھیں جو بند ہوں تو مقدر کھلے حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\