ہے دعا میری یہی ہر آن، یا خیرالوریٰ
آپؐ کی آمد بناۓ انقلابِ نو بہ نو
آدمی سمجھا مری تخلیق کا مقصد ہے کیا
جاگزیں ہر دل میں ہو ایسے محبت آپؐ کی
گھر وہ کیسا تھا کہ جس کے مُلک جاروب کش
رابعہؔ، لکھتی رہوں میں حمد و نعت و منقبت
— Rabia Basri\
ہے دعا میری یہی ہر آن، یا خیرالوریٰ
آپؐ کی آمد بناۓ انقلابِ نو بہ نو
آدمی سمجھا مری تخلیق کا مقصد ہے کیا
جاگزیں ہر دل میں ہو ایسے محبت آپؐ کی
گھر وہ کیسا تھا کہ جس کے مُلک جاروب کش
رابعہؔ، لکھتی رہوں میں حمد و نعت و منقبت
— Rabia Basri\
زمیں و زماں تمھارے لئے
دہن میں زباں تمہارے لئے
اصالت کل ، امامت کل،
تمہاری چمک تمہاری دمک
وہ کنز نہاں یہ نور فشاں
یہ شمس و قمر یہ شام و سحر
نہ روحِ امیں نہ عرشِ بریں
جناں میں چمن، چمن میں سمن،
اشارے سے چاند چیر دیا،
صبا وہ چلے کہ باغ پھلے،
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
سحابِ رحمت باری ہے بارہویں تاریخ
ہمیں تو جان سے پیاری ہے بارہویں تاریخ
اسی نے موسم گل کو کیا ہے موسم گل
بنی ہے سرمۂ چشم بصیرت و ایماں
ہزار عید ہوں ایک ایک لحظہ پر قرباں
فلک پہ عرشِ بریں کا گمان ہوتا ہے
تمام ہو گئی میلادِ انبیا کی خوشی
دلوں کے میل دُھلے گل کھلے سرور ملے
چڑھی ہے اَوج پہ تقدیر خاکساروں کی
خدا کے فضل سے ایمان میں ہیں ہم پورے
ولادتِ شہ دِیں ہر خوشی کی باعث ہے
ہمیشہ تو نے غلاموں کے دل کئے ٹھنڈے
خوشی ہے اہل سنن میں مگر عدو کے یہاں
جدھر گیا سنی آواز یَا رَسُوْلَ اللہ
عدو وِلادتِ شیطاں کے دن منائے خوشی
حسنؔ ولادتِ سرکار سے ہوا روشن
— Hassan Raza Khan Barelvi\
پھولوں کی بہاریں بھول گۓ کیسے ہیں ستارے بھول گۓ
سرکار جہاں بھی یاد آۓ پھر یاد نہیں کوئی آیا
کچھ اتنا کرم فرماتے ہیں سرکار تو اپنے منگتوں پر
ہے سب یہ عطاۓ عشقِ نبی اشکوں کی نئ توقیر ملی
دل محو ہےیادِ سرور میں طوفان کاکوئی خوف نہیں
اب پھول برستےرہتےہیں آنکھوں سے بجاۓ شعلہ غم
عزت بھی ملی شہرت بھی ملی دنیا کی سیادت بھی پائی
قرآن سے ہم بے بہرہ ہیں کیا عشقِ نبی کہتے ہیں اسے
کیا معجزہ ہاۓ شمس وقمربھی بھولنےوالی باتیں ہیں
جب نام نبی کا اے خالدؔ لکھا ہوا کشتی پر دیکھا
— Khalid Mehmood Khalid\
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہر مدینہ ایسا ہے
منبر پاک رسولﷺ بھی دیکھا دیکھا خاص مصلیٰ بھی
ریاض الجنت کی خوشبو سے دل کو بھی مہکایا ہے
ہم مہمان بنے تھے انؐ کے عرش پہ جو مہمان ہوۓ
واپس آئیں دل نہیں کرتا چھوڑ کے انؐ کی چوکھٹ کو
— Unknown
کہنے لگا بھنور کہ تجھے راستہ دیا
شب بھی اتار بیٹھی سرِ ماتمی لباس
کہتے ہیں انکی نعت ہی سب اپنے رنگ میں
طیبہ بلا کے مجھ سے گناہ گار شخص کو
سُنتے ہوۓ وہ نعت مجھے خلد لے گۓ
اس بات پر لحد میں شہِ دیں بھی خوش ہوۓ
یوں مست ہیں کہ اپنی بھی ہم کو خبر نہیں
اک شب سجائی محف صد آہ و اشک و درد
پہلے تو مجھ کو شوقِ حضوری عطا کیا
پر نور کررہے ہیں بہتر چراغ آپ
پڑھ کر درودِ پاک دیا میں نے گل کو آب
عاصی ہو تم اگر تو شفاعت ہے میرے پاس
آقا میرے کریم میرے قاسم عطا
— Unknown
آخِری روزے ہیں دل غمناک مُضطَر جان ہے
عاشِقانِ ماہِ رَمضاں رو رہے ہیں پھوٹ کر
درد و رِقّت سے پچھاڑیں کھا کے روتا ہے کوئی
اَلفِراقُ آہ الفِراق اے رب کے مہماں اَلفِراق
داستانِ غم سنائیں کس کو جا کر آہ! ہم
خوب روتاہے تڑپتا ہے غمِ رَمضان میں
روتے روتے ہچکیاں بندھ جاتی ہیں عُشّاق کی
تیری فُرقت میں ترے عاشق کا دل ٹکڑے ہوا
وقتِ اِفطار و سَحر کی رَونقیں ہوں گی کہاں
تیری آمد سے دلِ پَژمردہ کھل اٹّھے مگر
ہائے صد افسوس! رَمضاں کی نہ ہم نے قدر کی
ماہِ رَمضاں تجھ میں جو روزے نہیں رکھتا کوئی
کر رہے ہیں تجھ کو رو رو کر مسلماں الوداع
روک سکتے ہی نہیں ہائے تجھے اب کیا کریں
السلام اے ماہِ رمضاں تجھ پہ ہوں لاکھوں سلام
چند آنسو نَذر ہیں بس اور کچھ پلّے نہیں
واسِطہ رَمضان کا یارب! ہمیں تُو بخش دے
دست بستہ التجا ہے ہم سے راضی ہو کے جا
کاش! آتے سال ہو عطارؔ کو رَمضاں نصیب
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
رہنماۓ دینِ فطرت آپؐ ہیں
ختم ہے ساری بڑائی آپؐ پر
پہلے تو حیوانیت کا راج تھا
آپؐ کی سیرت ہے سب کی رہنما
نعت لکھ کر مطمئن راحتؔ ہے یوں
— Rahat Nazeer Rahat\
یہ نوازشیں یہ عنائتیں غمِ دوجہاں سے چھڑا دیا
وہ خدا ہے جس کا خیال بھی مری ہر پہنچ سے بلند ہے
مرا سوزِ لذت زندگی مرے اشک میری بہار ہیں
کہاں میں کہاں تری آرزو کہاں میں کہاں تری جستجو
تو کریم کتنا عظیم ہے تو رؤف ہے تو رحیم ہے
جو ملال میرا تھا تمہیں اس کا کتنا خیال تھا
میں ہوں اپنے حال پہ مطمئن میں کسی کوکیسے بتاؤں گا
وہ گھڑی بھی آۓ کہ خواب میں وہ دکھائیں اپنی تجلیاں
یہ تمہارا خالدؔ بے نوا ہے سرور وکیف کا واسطہ
— Khalid Mehmood Khalid\
سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب
حسن ہے بے مثل صورت لا جواب
پوچھے جاتے ہیں عمل میں کیا کہوں
میری حامی ہے تیری شانِ کریم
ہیں دعائیں سنگ دشمن کا عوض
پلتے ہیں ہم سے نکمے بے شمار
روزِ محشر ایک تیرا آسرا
میں ید بیضا کے صدقے اے کلیم
کیا عمل تو نے کئے اس کا سوال
مہر و مہ ذَرّے ہیں ان کی راہ کے
تم سے اس بیمار کو صحت ملے
دیکھ رِضواں دَشتِ طیبہ کی بہار
شور ہے لطف و عطا کا شور ہے
جرم کی پاداش پاتے اَہلِ جرم
پر تمہارے لطف آڑے آگئے
ہے حسنؔ محوِ جمالِ رُوئے دوست
— Hassan Raza Khan Barelvi\