یہ خانۃ نبیؐ ہے، یہاں زر نہ مال ہے
بزم نبیؐ میں پاتے ہیں یکساں سب التفات
آئی نہیں زباں پہ کبھی کوئی تلخ بات
خود اپنی راۓ سے بھی دیا اذنِ اختلاف
تکلیف دینے والوں کو بھی بد دعا نہ دی
سیرت سے اُنؐ کی صرف جہل ہے نعیمؔ
— Syed Zia Ud Deen Naeem\
یہ خانۃ نبیؐ ہے، یہاں زر نہ مال ہے
بزم نبیؐ میں پاتے ہیں یکساں سب التفات
آئی نہیں زباں پہ کبھی کوئی تلخ بات
خود اپنی راۓ سے بھی دیا اذنِ اختلاف
تکلیف دینے والوں کو بھی بد دعا نہ دی
سیرت سے اُنؐ کی صرف جہل ہے نعیمؔ
— Syed Zia Ud Deen Naeem\
نہ عرشِ امین نہ اِنِّیْ ذَاھِبٌ میں مہمانی ہے
نصیبِ دوستاں گر اُن کے دَر پر مَوت آنی ہے
اُسی دَر پر تڑپتے ہیں مچلتے ہیں بِلکتے ہیں
ہر اِک دیوار و دَر پر مہر نے کی ہے جبیں سائی
تِرے منگتا کی خاموشی شفاعَت خواہ ہے اُس کی
کُھلے کیا رازِ محبوب و محب مستانِ غفلت پر
جہاں کی خاکروبی نے چمن آرا کیا تجھ کو
شہا کیا ذات تیری حق نما ہے فردِ امکاں میں
کہاں اس کو شکِ جانِ جناں میں زَر کی نقاشی
ذِیَابٌ فِی ثِیَابٍلب پہ کلمہ دِل میں گستاخی
یہ اکثر ساتھ اُن کے شانہ و مسواک کا رہنا
اسی سرکار سے دُنیا و دِیں مِلتے ہیں سائل کو
دُرودیں صورتِ ہالہ محیطِ ماہِ طیبہ ہیں
تَعَالٰی اللہ اِستغنا تِرے دَر کے گداؤں کا
وہ سر گرمِ شفاعت ہیں عرق اَفشاں ہے پیشانی
یہ سر ہو اور وہ خاکِ دَر وہ خاکِ دَر ہو اور یہ سر
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
اچانک دشمنوں نے کی چڑھائی یا رسول اللہؐ
مِرا دشمن تو مجھ کو ختم کرنے آہی پہنچا تھا
شہید دعوت اسلامی سجاد و احد آقاؐ
یہی ہے جرم میرا سنتوں کا ادنیٰ خادم ہوں
بہر صورت مجھے مرنا پڑے گا پر سعادت ہے
حقوق اپنے کۓ ہیں درگزر دشمن کو بھی سارے
ہدایت دشمنوں کو یا نبی ﷺ ایسی عطا کردو
تمنا ہے مرے دشمن کریں توبہ عطا کردو
کسی صورت بھٹک سکتا نہیں میں راہ سنت ہے
اگرچہ جان جاۓ خدمتِ سنت نہ چھوڑوں گا
حفاظت دشمنوں سے آپؐ ہی فرمایۓ آقاؐ
مقابل دشمنِ اسلام کے ایسا بناؤ گویا!
اندھیری قبر سے شاہ مدینہ ﷺ خوف آتا ہے
تمنا ہے تیرےﷺ عطار کی یوں دھوم مچ جاۓ
— Unknown
میرا گدا میرا منگتا میرا غلام آئے
درود سیدِ کونین کے وسیلے سے
میرا گدا میرا منگتا میرا غلام آئے
میں اس یقین سے آیا ہوں ان کے روضے سے
غلام ِ زہرہ ہوں میں تو علی کا نوکر ہوں
میں دیکھتا ہی رہوں بس تمہارے روضے کو
میرا گدا میرا منگتا میرا غلام آئے
— Unknown
دمک رہی ہے مہک چار سُو مدینے کی
دلوں کا چین بھی ہے روح کا قرار بھی ہے
نبی کی نسبتیں ہیں ساری عظمتوں کا سبب
قدم حضور کے آۓ تو رحمتیں آئیں
طوافِ عظمت کعبہ بھی کررہی ہے وہاں
تڑپتے دل کو قرار آگیا خدا کی قسم
ضرور تم کو بلائیں گے رحمت عالم
نفس نفس میں مدینے کی یاد بس جاۓ
کچھ اور حسن کی بڑھ جاۓ آبرو خالدؔ
— Khalid Mehmood Khalid\
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
نہ ہم آنے کے لائق تھے نہ مونھ قابل دکھانے کے
خبر کیا ہے بھکاری کیسی کیسی نعمتیں پائیں
تصدق ہو رہے ہیں لاکھوں بندے گرد پھر پھر کر
خدا کی شان یہ لب اور بوسہ سنگ اَسود کا
جو ہیبت سے رُکے مجرم تو رحمت نے کہا بڑھ کر
مقامِ حضرتِ خلت پدر سا مہرباں پایا
لگاتا ہے غلافِ پاک کوئی چشم پرنم سے
وطن اور اس کا تڑکا صدقے اس شامِ غریبی پر
ہوئے اِیمان تازہ بوسۂ رُکن یمانی سے
یہ زمزم اس لئے ہے جس لئے اس کو پئے کوئی
شفا کیوں کر نہ پائیں نیم جاں زہر معاصی کے
صفائے قلب کے جلوے عیاں ہیں سعی مسعٰی سے
ہوا ہے پیر کا حج پیر نے جن سے شرف پایا
نہیں کچھ جمعہ پر موقوف اَفضال و کرم اُن کے
حسنؔ حج کر لیا کعبہ سے آنکھوں نے ضیا پائی
— Hassan Raza Khan Barelvi\
حضورؐ آپ کی مدحت کروں رقم کیسے
کسے مجال کسے تاب کس میں ہمت ہے
ہواۓ نور کو پوشاک حرف پہناۓ
ہزار لفظ و معانی ہتن کریں لیکن
بشر ہیں آپؐ بشر سے مگر سوا بھی تو ہیں
حضورؐ نعت کا حق مجھ سے کیا ادا ہوگا
نہ میرے ہاتھ میں ہے شمعِ سیرتِ اقدس
زباں سے دعویٰ تو ہے آپؐ کی محبت کا
میں تیرگی کے حساروں میں کس طرح نکلوں
— Syed Arif\
اذن مل جاۓ گر مدینے کا
جا کے ان ﷺ کو دجھاؤں گا میں تو
قلب عاشق دھڑک اٹھا اک دم
میری آنکھوں سے اشک جاری ہوۓ
اس کی قسمت پہ رشک آتا ہے
سب کو آقاﷺ بلائیں گے اک دن
ہوغم مصطفیٰﷺ عطا یا رب عزوجل
نزع میں قبر میں قیامت میں
درد رنج و الم ہوں دنیا کے
اپنے عطارؔ پر کرم کر دو
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
میرے دل کی روشنی ہے مل گئی
تیری نعمتوں سے لگائی جب سے لو
جھوم کر جب پڑھ لیا ان پر درود
جب لیا نامِ مھمدﷺ جھوم کر
وہ شفاعت پاۓ گا آقا جسے
جب ہوا ثاقبؔ تیرے در کا غلام
— Unknown
یا نبی نسخہ ِٔ تسخیر کو میں جان گیا
ڈوبتے ڈوبتے جب ان کی طرف دھیان گیا
ہر بلندی مجھے پستی کی طرح آئی نظر
غیب کا جاننے والا انہیں جب میں نے کہا
جیسے برسوں کی ملاقات رہی ہو ان سے
— Unknown