حدود طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
ہر ایک حرفِ تمنّا، حضور جانتے ہیں
— Unknown
حدود طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
ہر ایک حرفِ تمنّا، حضور جانتے ہیں
— Unknown
سرور سے دل لہک رہا ہے درود سے روح کِھل اٹھی ہے
ہوا اسی کی مکاں مکاں ہےصدا اسی کی گلی گلی ہے
کہاں علم کوئی دھر سکے گا کہاں کوئی مدح کرسکے گا
مآل رسوا کسے دکھاؤں سکوں کے لمحے کہاں سے لاؤں
ہوس کی وادی گماں کا صحرا کہاں کہاں سرگرداں رہے ہو
درود کی لَے سے لَے ملا کر اک آدمی مدح کر رہا ہے
— Syed Tabish Alwari\
خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وَقعت محفوظ
دل میں روشن ہو اگر شمع وِلائے مولیٰ
یا خدا محو نظارہ ہوں یہاں تک آنکھیں
سلسلہ زلف مبارک سے ہے جس کے دل کو
تھی جو اُس ذات سے تکمیل فرامیں منظور
اے نگہبان مِرے تجھ پہ صلاۃ اور سلام
واسطہ حفظِ الٰہی کا بچا رہزن سے
شاہیٔ کون و مکاں آپ کو دی خالق نے
تیرے قانون میں گنجائش تبدیل نہیں
جسے آزاد کرے قامتِ شہ کا صدقہ
اس کو اَعدا کی عداوَت سے ضرر کیا پہنچے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
کھلا ہے سبھی کے لیے باب رحمت
مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی
میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا
وہ دربار سچ مچ میرے سامنے تھا
جو اک ہاتھ سے دل کو تھامے ہوۓ تھا
دعا کے لۓ ہاتھ اٹھتے تو کیسے
دھنی اپنی قسمت کا ہے تو وہی ہے
مقدر ہے سچا مقدر اسی کا
میں توصیف سرکار ﷺ کر تو رہا ہوں
میں بس ایک ادنیٰ ثناء خواں ہوں ان کا
— Unknown
زباں کو لذتِ اظہار کا مزہ آۓ
جو معترض ہے کوئی آپؐ کی صداقت کا
حضور! آپؐ کے قدموں کی خاک ہے دنیا
رہینِ دستِ کرم آپؐ کا، ہر اک ذرہ
خدا کرے کہ یہ کرب آخرت کی راحت ہو
ریاضؔ قُدس کو میں آںکھ میں بسا لاؤں
— Syed Riaz Hussain Zaidi\
نظر اِک چمن سے دو چار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
نہ دلِ بشر ہی فِگار ہے کہ مَلک بھی اس کا شکار ہے
نہیں سر کہ سجدہ کُناں نہ ہو نہ زباں کہ زَمزَمَہ خواں نہ ہو
وہ ہے بھینی بھینی وہاں مہک کہ بسا ہے عرش سے فرش تک
کوئی اور پھول کہاں کھلے نہ جگہ ہے جوشِشِ حسن سے
یہ سَمَن یہ سوسَن و یاسمن یہ بنفْشَہ سُنبُل و نَسْتَرَن
یہ صبا سنک وہ کلی چٹک یہ زباں چہک لبِ جُو چھلک
وہی جلوہ شہر بَشہر ہے وہی اصلِ عالَم و دَہر ہے
وہ نہ تھا تو باغ میں کچھ نہ تھا وہ نہ ہو تو باغ ہو سب فنا
یہ ادب کہ بلبلِ بے نوا کبھی کھل کے کر نہ سکے نوا
بہ ادب جھکالو سرِوِلا کہ میں نام لوں گل و باغ کا
وہی آنکھ اُن کا جو مُنہ تکے وہی لب کہ محوہوں نعت کے
یہ کسی کا حسن ہے جلوہ گر کہ تَپاں ہیں خوبوں کے دل جگر
وہی نذرِ شہ میں زرِ نکو جو ہو اُن کے عشق میں زَردْ رُو
جسے تیری صفِّ نِعال سے ملے دو نوالے نَوال سے
وہ اٹھیں چمک کے تجلِّیّاں کہ مٹا دیں سب کی تعلِّیّاں
رُسُل و مَلک پہ درود ہو وہی جانے اُن کے شمار کو
نہ حجاب چَرخ و مَسِیح پر نہ کلیم و طُور نِہاں مگر
وہ تری تجلّیِ دل نشیں کہ جھلک رہے ہیں فلک زمیں
مِری ظلمتیں ہیں سِتم مگر ترا مَہ نہ مِہر کہ مِہرگَر
گنہِ رضاؔ کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سِوا
تِرے دینِ پاک کی وہ ضیا کہ چمک اٹھی رہِ اِصطَفا
کوئی جان بس کے مہک رہی کسی دل میں اس سے کھٹک رہی
وہ جسے وہابیہ نے دیا ہے لقب شہید و ذبیح کا
یہ ہے دیں کی تَقْوِیَت اُس کے گھر یہ ہے مستقیم صراطِ شر
وہ حبیب پیارا تو عمر بھر کرے فیض و جُود ہی سر بسر
وہ رضاؔ کے نیزہ کی مار ہے کہ عَدُوّ کے سینہ میں غار ہے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
بھیک عطا اے نبیؐ محتشم ہو
دید کا طلبگار آقاؐ ہوں اگرچہ گنہگار آقاؐ
آقاؐ اس گنہگار پر بھی کرم ہو، میرے آقاؐ نگاہِ کرم ہو
رحمتیں خاص اپنی کرو گے آج دامن میرا بھی بھرو گے
رب عزوجل نے سب کچھ تجھے دے دیا ہے
جس کسی کو ملا جو ہے میرے داتا تیری ہی عطا ہے
چھوٹ جاۓ گناہوں کی عادت
ایسی کردے نظر عنایت بس تیرے غم میں ماہؐ رسالت
ہے تمنا میری دلبر دیکھ لوں کاش ہر سال آکر
پھر یہاں حال بچشم نم ہو میرے آقاؐ نگاہ کرم ہو
مضطرب قلب تھا آنکھ تھی تر اس گھڑی عرض یہ تھی زباں پر
عرض کرتا عبید رضا ہے، تیرے درکا یہ ادنیٰ گدا ہے
— Ubaid Raza\
جہاں بھی ہو وہیں سے دو صدا سرکار سنتے ہیں
میرا ہر سانس ان کی آہٹوں کے ساتھ چلتا ہے
گنہگارو درودِ والہانہ بھیج کر دیکھو
کھڑے رہتے ہے اہلِ تخت بھی دہلیز پہ انکی
میں صدقے جاؤں ان کی رحمت اللعالمینی کے
وہ یوں ملتے ہے جیسے زندگی میں کوئی ملتا ہے
مظفر جب کسی محفل میں ان کی نعت پڑھتے ہیں
— Unknown
خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
نرالا حسن انداز و ادا خاص
تری نعمت کے سائل خاص تا عام
شریک اس میں نہیں کوئی پیمبر
گنہگارو نہ ہو مایوسِ رحمت
گدا ہوں خاص رحمت سے ملے بھیک
ملا جو کچھ جسے وہ تم سے پایا
غریبوں بے نواؤں بے کسوں کو
جو کچھ پیدا ہوا دونوں جہاں میں
تمہاری اَنجمن آرائیوں کو
نبی ہم پایہ ہوں کیا تو نے پایا
جو رکھتا ہے جمالِ مَنْ رَّاٰنِیْ
نہ بھیجو اَور دروازوں پر اس کو
— Hassan Raza Khan Barelvi\
ربِ عالم نے تجھ کوبلایا وہاں جس جگہ پرکسی کو بلایا نہیں
اُن سے معراج کی شب یہ حق نے کہا یوں تو پیارے ہیں مجھ کو سبھی انبیاء
پاس اپنے بلانے کا تھا مدعا تاکہ تیرا بھی چل جاۓ سب کو پتہ
جس کو عرشِ معلیٰ بنی راہ گزرجو لٹاتاہے انوار شام وسحر
وقت رنگیں نظاروں میں ڈھلتا رہا، رہا بستر گرم پانی چلتا رہا
میں ہوں طالب تیرامیرامطلوب تو انبیاء میں مجھے سب سے محبوب تو
ہے جہاں تک بھی سن لے خدائی میری اس خدائی پہ ہے مصطفائی تری
دو کریموں کی ناصرؔ ملاقات ہےکس قدر محترم آج کی رات ہے
— Unknown