ترے کرم سےہمیں زندگی کا نور ملا
ہمارے جسموں پہ رحمت قبائیں تیری ہیں
رہِ حیات میں جب تھک کے بیٹھنا چاہا
وہ شہر کتنا مقدس، وہ کتنا عظیم
تیرے وسیلے خدا بے حساب دیتا ہے
— Kavish Butt\
ترے کرم سےہمیں زندگی کا نور ملا
ہمارے جسموں پہ رحمت قبائیں تیری ہیں
رہِ حیات میں جب تھک کے بیٹھنا چاہا
وہ شہر کتنا مقدس، وہ کتنا عظیم
تیرے وسیلے خدا بے حساب دیتا ہے
— Kavish Butt\
جب تصور میں کبھی شہر مدینہ آیا
مل گئی جس کو گدائی درِ اقدس کی
بحر موّج سے بس اسم محمد کے طفیل
جب کبھی اپنےگناہوں پہ ذرا غورکیا
میری جانب بھی تصرف کی نظرہو جاۓ
آپ کے درس صداقت کی بدولت عارف
— Arif Amritsari\
ساڈے ول سوہنیا نگاہواں کدوں ہونیاں
اک اک ذرے وچ رکھیاں شفاواں نیں
رو رو ساری زندگی جدائیاں دیاں دُھپاں دل ساڑیا
اساں ایہو سدھراں نیں سینے وچ پالیاں
— Muhammad Ali Sajjan\
سوۓ بطحیٰ یہ سمجھ کر ہیں زمانےجاتے
پردہ میم کے اسرار جو کھولےجاتے
رہتے سرکارکے کیا خلق سے جانےجاتے
مانع حشر ہے آقا کا نہ سمجھا جانا
سیرت پاک سے قرآں جو نہ روشن ہوتا
جسم کے ساتھ اٹھاۓ گۓ جبکہ عیسیٰ
ان کے کردار کا قد ناپ رہی ہے دنیا
بھول جاتے تھے صحابہ غم و آلام اپنے
— Unknown
عطاۓ خالق اَرض و سما ہے
بلایا عرش پر جن کو خدا نے
جہاں جبریل ہے اِک سوالی
پھرتے ہیں نظر میں درودیوارِ مدینہ
یہ نور کی بستی ہےکہ جلووں کا نگرہے
ہر سانس میں بوباس ہے حبِ نبویﷺ کی
پابندِ ادب چاہیے سانس اور نظر بھی
دل کیوں نہ ہو معمور شہِ دیںﷺکےکرم سے
گزرےہیں اسی رہ سے خراماں شہِ والا ﷺ
— Khawaja Qutbuddin Fareedi\
دیکھنا تو ہےبڑی بات شہ بطحیٰ کو
رحمت شاہ مدینہ کا کرم کام آیا
کی نہ کعبہ کی زیارت بھی بغیرآقا کے
کون سرکار کو سرتا بہ قدم دیکھے گا
نور کی حد میں فقط نورہی جا سکتا ہے
سایہ گنبد خضریٰ جنہیں اپناتا ہے
نورِ باطن سے مدینے کے نظارے دیکھو
زندگی دوری سرکار میں خود موت ہےشوق
— Khawaja Shouq\
شایاں ہے جب شفاعتِ کبریٰ حضور کو
یکتائیِ محبتِ عظمیٰ تو دیکھیے
ان کے طفیل بن گیا سامانِ مغفرت
بیچارگیمیں چارۃ عصیاں ہے اُن کی ذات
جس کے کرم سے قطبؔ زمانہ ہےفیض یاب
— Khawaja Qutbuddin Fareedi\
سچی بات سکھاتے یہ ہیں
رب ہے معطی یہ ہیں قاسم
انا اعطینک الکوثر
نزع روح میں آسمانی دے
باپ جہاں بیٹے سے بھاگے
سلم سلم کی ڈھارس سے
رافع نافع شافع دافع
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
سب سے بڑا دربار مدینے والے کا
لےکے چلواب مجھ کومدینےلے کے چلو
مجھ کو ہوگا ناز کے جب سب مجھ کو کہیں
میرے دل کی کوئی تمنا ہے تو یہی
جو ہیں نبی کے عاشق وہ کہتے ہیں
جو ہیں نبی کے دشمن وہ یہ کہتے ہیں
محسن اک دن ہم بھی طیبہ جائیں گے
— Mohsin\
اے مطلوب یزداں تو ہے وجہ تخلیقِ کائنات
رب نے دوٹوک فرمایا: اے محبوب میرے
نور کی اک چُھلنی تھے سارے انبیاء تیرے لیے
وہ ہے رب العالمین اور تو ہےرحمۃ للعالمین
جنت کی مٹی کوسلسبیل وتسنیم اور آبِ کوثرسے گوندھا گیا
تیری زلف عنبریں کے طفیل زلف کو شہر ملی وگرنہ
تیری عظمت و توقیر خالق نے دکھانی تھی وگرنہ
شمس و قمرنہ زمیں آسماں بنتے نہ کائنات سجتی
خالق نےکہا: میں خزانۃ مخفی تھا، چاہا آشکار ہوگیا
تخلیق ہوئی سب سے پہلے روح محمدؐ توپتا چلا شفقتؔ
— Muhammad Shafqat Ullah Qadri\