آقا کے دیوانے کہتے ہیں
جس نے یارو مُردے جلاۓ
جن کا رتبہ سب سے جدا ہے
اللہ کی تصویر ہے پیارا
رب نے جس کو یار بنایا
جس نے کسی کا دل نہیں توڑا
— Unknown
آقا کے دیوانے کہتے ہیں
جس نے یارو مُردے جلاۓ
جن کا رتبہ سب سے جدا ہے
اللہ کی تصویر ہے پیارا
رب نے جس کو یار بنایا
جس نے کسی کا دل نہیں توڑا
— Unknown
غم حبیب کو سینے میں پال رکھا ہے
تری مثال زمانےمیں ہو نہیں سکتی
ہر آڑے وقت میں فرمائی دستگیری مری
ہر ایک سمت عیاں ہیں کہاں کہاں دیکھیں
میری حیات نے ان کا خیال رکھا ہے
ہم ان کو حشر میں کیا منہ دکھائیں گے نیر
— Syed Shareef Ud Deen Nayyar\
عظمتوں کا تری حساب نہیں
تُو جو لایا پیامِ ربّ کریم
جو کسی کے بھی روبُرو نہ ہوئی
ہوگئ جس میں تیری جلوہ گری
ڈھونڈ لاۓ جو تیری بُوۓ بدن
حُسن خیر الانام ؐ کے آگے
صابریؔ! جن میں ہو نہ ذکرِ رسولؐ
— Muhammad Ali Sabri\
ہر لحظہ ہے رحمت کی برسات مدینے میں
پلکوں پہ سجاؤں گا میں خاک مدینہ کی
کچھ ہار درودوں کے ہیں زاد سفر میرا
عرشی بھی سوالی ہیں فرشی بھی سوالی ہیں
دربار سے کوئی بھی ناکام نہیں پھرتا
جس ذات کی برکت سے ہے نام ظہوریؔ کا
— Muhammad Ali Zahoori\
ہر جا بج رہا ہے سرکار کا ترانہ
نوری بھی پڑھ رہے سرکار کا ترانہ
سارے جہاں کے اندر جس وقت جا کے دیکھو
لب چومتے ہیں اُس کے آکے فرشتے نوری
کعبے کا ہر مینار فلکوں کا تارا تارا
حورو غلماں سارے ثاقبؔ ہر وقت پڑھ رہے ہیں
— Unknown
غم،طمانیت و تسکین میں ڈھل جاتے ہیں
ان کی رحمت ہے خطا پوش گنہ گاروں پر
اسم احمد کا وظیفہ ہے ہر اک غم کا علاج
آپ کے ذکر سے اک کیف ملا کرتا ہے
اپنی آغوش میں لے لیتا ہے جب ان کا کرم
عشق کی آنچ سے دل کیوں نہ بنےگا کعبہ
رکھ ہی لیتے ہیں بھرم ان کے کرم کےصدقے
آپڑے ہیں ترے قدموں میں یہ سن کر ہم بھی
آپ کو کعبہ مقصود ہی مانو خالد
— Khalid Mehmood Khalid\
کب مجھے آقاؐ خدائی چاہیے
دل کی بستی میں ہوں یادیں آپ کی
زندگی سے موت کی آغوش میں
دامنِ رحمت کی عظمت کے طفیل
عقل کے جھنجھٹ سے چھٹکارا ملے
کھیلتی ہے عقل ہولی خون کی
چار سُو پھیلی ہوئی ہے تیرگی
خوار و خستہ امتِ مغموم کی
چپ رہوں گا کچھ نہیں مانگوں گامیں
مولاؐ! محتاج کرم ہے صابریؔ
— Muhammad Ali Sabri\
محمد ﷺ کا نہ در ملتا دیوانے کہاں جاتے
اگر نہ مشعل وحدت جہاں میں جلوہ گر ہوتی
غریبوں بے سہاروں کو اگر نہ آسرا ملتا
اگر اپنوں کو ہی لیتے محمد ﷺ ظلِ رحمت میں
اگر روداد غم سنتے نہ حضرت ﷺ بے نواؤں کی
اگر نہ رحمت عالم کے قدموں میں جگہ ملتی
اگر ہوتے جبینوں پہ نہ سجدوں کے نشان مسلم
— Unknown
غلاموں سلاموں کے نغمےسناؤ
کھلے پھول غنچے سجی ڈالی ڈالی
خدا جس پہ نازاں خدائی بھی قرباں
امیرو فقیرو ارے بے نواؤ
اری مشکلو! مشکلوں میں نہ گھیرو
یہ کون آیا اوڑھے کرم کا دوشالہ
پڑھے جا نبی کی تو نعتیں نیازی
— Abdul Sattar Khan Niazi\
آقا حضور آئیں گ آج نہیں تو کل سہی
جلوہء روۓ والضحیٰ نور نظر بنے گا جب
ان کا کرم ہے چار سو ان کی ہے مجھ کو جستجو
ان کے بغیر زندگی موت ہے زندگی نہیں
نعتوں کے پھول اسی طرح کھلتے رہے جو رات دن
ایسا بھی ہو گا ایک دن ہم اپنی داستانِ غم
وابستہ کر دے اے ریاضؔ ان سے خدا اگر ہمیں
— Unknown