کوئی ہم پلہ نہ ثانی ترا کونین میں ہے
عرش اعلیٰ کابھی اعزازبڑھا ہےان سے
جگمگاتےہیں اِسی سے مرےباطن کےنقوش
گورمیں آکےچلے جائیں گے کچھ پوچھےبغیر
عشق سرکار نےہر غم سے کیا ہے آزاد
جس کے انوار سے ہے قطب زمانہ روشن
— Khawaja Qutbuddin Fareedi\
کوئی ہم پلہ نہ ثانی ترا کونین میں ہے
عرش اعلیٰ کابھی اعزازبڑھا ہےان سے
جگمگاتےہیں اِسی سے مرےباطن کےنقوش
گورمیں آکےچلے جائیں گے کچھ پوچھےبغیر
عشق سرکار نےہر غم سے کیا ہے آزاد
جس کے انوار سے ہے قطب زمانہ روشن
— Khawaja Qutbuddin Fareedi\
یہ دن رات آنکھیں جی نم کس لیے ہیں
یہ پوچھا کہ سجدہ ہے کس جا پہ کرنا
جبریل چومو آج اُن کی تلیاں
گناہ گار بولے ہے کون اب ہمارا
اگر ان کو آنا ہے مدفن میں حاکم
— Unknown
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سانس لیتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی
روزِ محشر نہ کوئی اور سہارا ہوگا
چاند قدموں پہ گرِا ان کا اشارا جو ہوا
دل تڑپ جائے گا اے زائرِ بطحا تیرا
تجھ سے پوچھا نہ نکیروں نے ظہوری کچھ بھی
— Muhammad Ali Zahoori\
کب کہتا ہوں نایاب نگینہ مجھے دے دو
خوشبو سے مہکتا رہے گلشن مرے دل کا
کیا مانگوں شہا آپ سے کس طرح میں مانگوں
جینا بھی مدینے کا مدینے کا ہے مرنا
بے شک نہ ملیں مجھ کو جہاں بھر کے خزانے
جس سینے میں آباد ہو آقا کا مدینہ
اوروں سے غرض ہےنہ نیازیؔ مجھے ہوگی
— Unknown
سایۂ زلفِ گرہ گیر کرو
دل کے ویرانے کو روشن کر دو
کب تلک مجھ سے حجاباتِ جمال
رخ سے اک بار اُٹھا دو پردہ
— Qazi Arfi\
کیا لطف ہے سخن کا اگر چشم تر نہ ہو
ہو اس طرح سے اپنی مدینے میں حاضری
جھکتا ہے میرادل بھی مرےسرکے ساتھ ساتھ
آسودگی نصیب نہ ہو جانِ زار کو
جس شب رخ حبیب کا جلوہ نصیب ہو
بے کیف زندگی ہے ظہوری تمام اگر
— Muhammad Ali Zahoori\
اُن کی یاد میں رہتا ہوں اور مجھے کچھ کام نہیں
اُنکی یاد کا احساس ہے فکرِ صبح و شام نہیں
ہم نے تو دیکھی ہی نہیں صورت ہی ناکامی کی
جتنا جس کا ظرف طلب ویسا اس کا پیمانہ
ہو سُو جا کےدیکھ لیا بربادی مایوسی ہے
یہاں تک محدود نہیں ہےان کا جلوہ اے واعظ
جس کو ان کا درد ملا ساری کائنات ملی
میرے تڑپنے کی خالدؔ اُن کو خبر ہو جاتی ہے
— Khalid Mehmood Khalid\
دیکھو جشن ولادت آیا کہ دھوم مچی سبحان اللہ
مکے میں شورہوا یہ آۓ حضور آۓ
حسرت ہے سب کو جائیں آمنہ بی بی کے گھر
بھیجو درود ان پر اللہ یہ فرماۓ
سوکھے شجر نے پایا اُن کے کرم کا سایا
اُن کے دیوانے سارے جشنِ میلاد منائیں
— Unknown
قیامت ہے اب انتظار مدینہ
مری روح آئینہ دارِ مدینہ
اِسی آرزو میں مٹا جا رہاہوں
شفاعت مسلم، جو مل جاۓ مجھ کو
ستم کا نشانہ مری زندگی ہے
معطر ہوئی جاں، کھلا غنچۃ دل
یہ دوری نہیں، حد پاس ادب ہے
پیا تھا بس اک جام اس میکدے سے
تصور میں ہے آمد و رفت شاہ کی
اُسے مل گئی دین و دنیا کی دولت
لگا لوں گا آنکھ سرمہ سمجھ کر
اُبھرنے کوہیں سبز گنبد کے جلوے
نصیر اپنی کوشش نہیں کام آتی
— Peer Naseer Ud Din Naseer\
اے شہر مدینہ ترا کہنا کیا ہے
تو افضل ہوا اس لیے شہرِ طیبہ
تری شان ہے ساری جگ سے نرالی
ہے جگ سارا عاشق ترا شہر طیبہ
قدم چومے آقا کے تو شہرِ طیبہ
تیری ساری گلیاں نورانی نورانی
ثاقبؔ کا مولا ہو مدفن مدینے
— Unknown