کیا لطف ہے سخن کا اگر چشم تر نہ ہو
ہو اس طرح سے اپنی مدینے میں حاضری
جھکتا ہے میرادل بھی مرےسرکے ساتھ ساتھ
آسودگی نصیب نہ ہو جانِ زار کو
جس شب رخ حبیب کا جلوہ نصیب ہو
بے کیف زندگی ہے ظہوری تمام اگر
— Muhammad Ali Zahoori\
کیا لطف ہے سخن کا اگر چشم تر نہ ہو
ہو اس طرح سے اپنی مدینے میں حاضری
جھکتا ہے میرادل بھی مرےسرکے ساتھ ساتھ
آسودگی نصیب نہ ہو جانِ زار کو
جس شب رخ حبیب کا جلوہ نصیب ہو
بے کیف زندگی ہے ظہوری تمام اگر
— Muhammad Ali Zahoori\