ہمیں بھی اپنےجلوؤں کا عطا دیدار کر دینا
زباں خاموش ہے اس واسطے آقا میں عاصی ہوں
کہاں تک جھڑکیاں کھائیں زمانے کی شہہ بطحا
ہمیں معلوم ہے ہم منہ دکھانے کے نہیں قابل
یہی خواہش یہی حسرت یہی ارمان ہے دل میں
— Unknown
ہمیں بھی اپنےجلوؤں کا عطا دیدار کر دینا
زباں خاموش ہے اس واسطے آقا میں عاصی ہوں
کہاں تک جھڑکیاں کھائیں زمانے کی شہہ بطحا
ہمیں معلوم ہے ہم منہ دکھانے کے نہیں قابل
یہی خواہش یہی حسرت یہی ارمان ہے دل میں
— Unknown
سبوۓ جاں میں چھلکتا ہے کیمیا کی طرح
قدح گسار ہیں اس کی اماں میں جس کا وجود
وہ جس کے لطف سے کھلتا ہے غنچہء ادراک
طلسم جاں میں وہ آئینہ دار محبوبی
وہ جس کا جذب تھا بیداریء جہاں کا سبب
وہ جس کا سلسلۃ جود ابر گوہر بار
خزاں کے حجلہء ویراں میں وہ شگفتِ بہار
بسیط جس کی جلالت حمل سے میزاں تک
سوادِ صبح ازل جس کے راستے کا غبار
وہ عرش و فرش و زمان و مکاں کا نقشِ مراد
— Siraj Ud Deen Zafar\
نگاہ رحمت اٹھی ہوئی ہے وہ سب کی بگڑی بنارہے ہیں
فلک کا سینہ دمک رہاہےزمیں کاگلشن مہک رہاہے
نہ ان سا کوئی عظیم دیکھا،نہ ایسا درِیتیم دیکھا
کرےگایہ حشربھی نظارہ بنیں گے مشکل میں وہ سہارا
بروز محشربوقت پرسش مجھےجودیکھافرشتےبولے
نبی کی توصیف اللہ اللہ کہ داد جبریلؑ دےرہاہے
— Muhammad Ali Zahoori\
آنکھوں میں بس گیا ہے مدینہ حضور کا
پھر جا رہا ہیں اہلِ محبت کے قافلے
تسکین جاں ہے راحتِ دل وجہ انبساط
نبیوں میں جیسے افضل و اعلیٰ ہیں مصطفیٰ
ہے رنگِ نور جس نے دیا دو جہان کو
جب سے قدم پڑے ہیں رسالت مآب کے
قدسی بھی چومتے ہیں ادب سے یہاں کی خاک
ہر ذرہ اپنی اپنی جگہ ماہتاب ہے
ہو ناز کیوں نہ اُس کو نیازیؔ نصیب پر
— Unknown
جہڑے کہندے سی مراں گے نال تیرے
پاؤندے رہے جو پھلاں دے ہار گل وچ
جہڑے عطر پُھلیل لگاوندے سَن
کہندے میری سرکار نہ تھکدے سَن
چانن میرے دیدار نوں کہن والے
اِک پل وی جدا نہ ہوۓ جہڑے
یاد رہیا نہ قول تے قرار اپنا
— Unknown
نہ نیر وگایاں بن دی اے نہ دردسنایاں بن دی اے
محشروچ سارے رو رو کت محبوبِ خدانوں آکھن گے
طیبہ دےسفردیاں راہیاں نوں بھل جان نظارےدنیادے
شبیردےخون نےکربل دی مٹی نوایہہ فرمایا سی
اس رنگ برنگی دنیاتےکدھرنہ ہورنظرآوے
جس دن دا ظہوری ویکھ لیا دربار محمد ﷺ عربی دا
— Muhammad Ali Zahoori\
رسولِ خدا سید المرسلینؐ
نبوت کی مسند کا ہے جانشیں
عجب روزِ محشر کا سردار ہے
جگت میں اوسے سلطنت ہے مدام
رہِ شرع کا ہادئ مستقیم
حبیبِ خدا والیِ روزگار
شہِ انس و جاں سب کا مقبول ہے
کہ جس واسطے خلق پیدا کیا
کہا حق نے لولاک جس شان میں
سدا گم رہوں کا وہی رہنما
عجب ذات مقبول کونین ہے
— Siraj Aurangabadi\
اک روز ہو گا جانا سرکار کی گلی میں
آنکھیں تو دیکھنے کو پہلے ہی مضطرب تھیں
گو پاس کچھ نہیں ہے لیکن یہ دیکھ لے گا
کبھی ہو حسیں تصور کبھی خود میں جاؤں چل کر
ہیں کہیں خزاں کے پہرے کہیں دو گھڑی بہاریں
دل میں نبی کی یادیں لب پر نبی کی نعتیں
یہی رسم عاشقی ہے یہی جانِ بندگی ہے
سمجھیں گے ہم نیازیؔ اُن کی کرم نوازی
— Abdul Sattar Khan Niazi\
دُکھ دنیا دے گھیرا لیندےپا ماواں جدوں مر جاندیاں
اپنیاں ماواں والی ٹھنڈ کون پاؤندا اے
اپنے پراۓ سارے مُکھ موڑ لیندے نیں
پت بھانویں برا ہووے ماں برا کہندی نئیں
ماۓ نی ماۓ آئیں گی کھڑی رُتے
اللہ سوہنیا کرم کماویں
ماواں تے دِھیاں دا ساتھ انوکھا
ماں میری نے باغ لگایا
بھابھیاں نے ویکھ کے مُکھ چا موڑیا
عیداں تے شبراتاں آئیاں
— Unknown
نبی کا نام جب میرے لبوں پر رقص کرتا ہے
مری بےچین آنکھوں میں وہ جب تشریف لاتےہیں
وہ صحراؤں میں بھی پانی پلا دیتے ہیں پیاسوں کو
پڑے ہیں نقش پاۓمصطفیٰﷺکےہارگردن میں
زمین و آسماں بھی اپنے قابو میں نہیں رہتے
لگی ہے بھیڑ اس کے گرد یہ کیسی فرشتوں کی!
— Muzaffar Warsi\