اک روز ہو گا جانا سرکار کی گلی میں
آنکھیں تو دیکھنے کو پہلے ہی مضطرب تھیں
گو پاس کچھ نہیں ہے لیکن یہ دیکھ لے گا
کبھی ہو حسیں تصور کبھی خود میں جاؤں چل کر
ہیں کہیں خزاں کے پہرے کہیں دو گھڑی بہاریں
دل میں نبی کی یادیں لب پر نبی کی نعتیں
یہی رسم عاشقی ہے یہی جانِ بندگی ہے
سمجھیں گے ہم نیازیؔ اُن کی کرم نوازی
— Abdul Sattar Khan Niazi\
