وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے
اتر کر حرا سے سوۓ قوم آیا
مسِ خام کو جس نے کندن بنایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موج بلا کا
— Unknown
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے
اتر کر حرا سے سوۓ قوم آیا
مسِ خام کو جس نے کندن بنایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موج بلا کا
— Unknown
کبھی اس شخص کے عیبوں کا چرچا ہو نہیں سکتا
وہی ہے صاحب ایماں جو یہ ایمان رکھتا ہے
حسین و مہہ جبین و نازنین یوں تو بہت سے ہیں
غلامِ مصطفیٰ کی ٹھوکروں میں ہے شہنشاہی
نبی کے چاہنے والوں کے دامن سے ہوں وابستہ
مدینے میں پہنچ کر کوئی سائل نامراد آۓ
شبِ معراج یہ حق نے کہا محبوب سے اپنے
علیمؔ اُن کا کرم بڑھ کر جیسےآغوش میں لے لے
— Unknown
ہو نگاہِ کرم یا محمد تیرے بن کوئی میرا نہیں ہے
میری قسمت میں وہ دن بھی آۓسبزگنبد کےحاصل ہوں ساۓ
بزم عالم کےروشن ستارےتیرےدم سے سجے ہیں نظارے
لا مکاں تک ہےتیری رسائی گیت گاتی ہے تیری خدائی
بیت جائیں گےدن زندگی کے ہم بھی منگتےہیں تیری گلی کے
— Unknown
مظہرِ شانِ کبریا صلِ علیٰ محمدؐ
موجب ناز عارفاں باعثِ فخر صادقاں
مرکز عشقِ دل کشا مصدر حسنِ جاں فزا
مونِ دل شکستگاں، پشتِ پناہ خستگاں
حسرت اگر رکھے ہے تو بخشش حق کی آواز
— Hasrat Mohani\
حقیقت میں وہ لطف زندگی پایا نہیں کرتے
زباں پر شکوہ رنج و الم لایا نہیں کرتے
یہ دربارِ محمدﷺ ہے یہاں ملتا ہےبے مانگے
ارے اونا سمجھ قربان ہوجا ان کے روضے پر
یہ دربار رسالت ہے یہاں اپنوں کا کیا کہنا
محمد مصطفیٰ کے باغ کے سب پھول ایسے ہیں
جو ان کے دامنِ اقدس سے وابستہ ہیں اے حامد
— Unknown
ہر سمت برستی ہوئی رحمت کی جھڑی ہے
وہ ابرکرم دشت کو گلزار بناۓ
محبوب کے دربارسےجومانگو ملے گا
سرکار نے حسان کو منبر پہ بٹھایا
جب چاہوں ظہوری کروں روضے کا نظارا
— Muhammad Ali Zahoori\
دے تبسم کی خیرات ماحول کو، ہم کو درکار ہے روشنی یا نبیؐ
اے نویدِ مسیحا! تری قوم کا حال عیسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا
کام ہم نے رکھا صرف اذکار سے، تیری تعلیم اپنائی اغیار نے
دشنِ جاں ہوا میرا اپنا لہو، میرے اندر عدو میرے باہر عدو
سچ مرے دور میں جرم ہے عیب ہے جھوٹ فنِ عظیم آج لاریب ہے
راز داں اس جہاں میں بناؤں کسے، روح کے زخم جا کر دکھاؤں کسے
زیست کے تپتے صحرا پہ شاہِعربؐ تیرے اکرام کا ابر برسے گا کب
یا نبیؐ اب تو آشوبِ حالات نے تیری یادوں کے چہرے بھی دھندلا دیے
— Hafeez Taib\
دکھا دے الہی وہ پیارا مدینہ الہی بنا دے مدینہ یہ سینہ
چلی جس طرف سے نبی کی سواری شجر نے ہجر دی جھک کر سلامی
کھڑے ہیں سوالی درِ مصطفیٰ پر وہاں کوئی اعلیٰ نہ کوئی تونگر
بلا لو مدینے میں آقا بلا لو اگر جارہا ہوں سنبھالو سنبھالو
کیا جب بھی کرتے تھے آقا عبادت تو قرآن کرتا تھا ان کی تلاوت
یہ آنکھوں کا رونا یہ دل کا تڑپنا تصور میں آقا کے در سے لپٹنا
— Unknown
ہر گھڑی سرکار کا اذکار ہونا چاہیے
جو بوصیری پر کیا تھا مدنی آقا تو کرم
مشکلوں نے چاروں خانے میرےآقا چت کیے
جلد میری سن دعا میرے پیارے مصطفیٰ
حشر کی سب سختیاں آسان کردے گا خدا
چھوڑ کر جب دنیا کو جاؤں میں آقا قبر میں
جب ہو عالم نزع کا ثاقب تمنا ہے میری
— Unknown
بھردو جھولی مری یا محمدؐ لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
حق سے پائی وہ شانِ کریمی مرحبا دونوں عالم کے والی
زندگی بخش دی بندگی کو آبرو دین حق کی بچا لی
حشر میں ان کو دیکھیں گے جسدم امتی یہ کہیں گے خوشی سے
عاشق مصطفیٰ کی اذاں میں اللہ اللہ کتنا اثر تھا
کاش پرنم دیار نبی میں جیتے جی ہو بلاوہ کسی دن
— Unknown