مولاۓ کائنات کی بے کس نوازیاں
تاثیرِ التفاتِ رسولؐ انام دیکھ
میدانِ بدر ہو کہ مصافِ حنین ہو
افکار مصطفیٰؐ سے فروغ حیات ہے
جنت کو انتظار ورود رسولؐ ہے
طائف کے سبزہ زار سے آنکھوں کو دے سکوں
درگاہ میں قبول ثنا سے ہے یہ مراد
— Hafiz Afzal Faqeer\
مولاۓ کائنات کی بے کس نوازیاں
تاثیرِ التفاتِ رسولؐ انام دیکھ
میدانِ بدر ہو کہ مصافِ حنین ہو
افکار مصطفیٰؐ سے فروغ حیات ہے
جنت کو انتظار ورود رسولؐ ہے
طائف کے سبزہ زار سے آنکھوں کو دے سکوں
درگاہ میں قبول ثنا سے ہے یہ مراد
— Hafiz Afzal Faqeer\
روۓ بدرالدجیٰ دیکھتے رہ گۓ
حسنِ خیر الوریٰ میں خدا کی قسم
ہم گنہگار پہنچے درِ پاک پر
در پہ بلوا کے داتا نے جھولی بھری
کوۓ طیبہ میں حیرت سے اہلِ سخا
وہ ہوا لطف پیہم کہ صلِ علیٰ
چاند دو ٹکڑےہو کر تصدق ہوا
جالیوں کے قریں بیٹھ کر وجد میں
رک کے سدرہ کی منزل پہ روح الامیں
جو سکندر ہوا اُن کے دربار سے
— Unknown
ہر سمت ہے ظلمت مری سرکار کرم ہو
کب تک بھلا سہتےرہیں باطل کے مظالم
اس درجہ نہ دیکھی تھی کبھی اے مرے آقا
سرکار! غلاموں کو توجینے نہیں دیتا
اب کسی طرح بھی دیکھی نہیں جاتی
کیوں میری نواؤں سےاثر ہوگیا زائل
— Sarwar\
میٹھا میٹھا ہے میرے محمدﷺ کا نام
وقت لاۓ خدا جائیں دربار پر
وہی حسنی حسینی چمن کے ہیں پھول
لامکاں کے بنے ہیں وہی تو مکیں
— Unknown
آؤ کہ ذکرِ حسنِ شہِ بحر و بر کریں
جو حسن میرے پیش نظر ہے اگر اسے
وہ چاہیں توصدف کو در بے بہا ملے
فرمائیں تو طلوع ہو مغرب سے آفتاب
شعروادب بھی آہ و فغاں بھی ہے ان کا فیض
اب کے جو قصدِ طیبہ کریں رہبرانِ شوق
— Hafiz Mazhar Ul Deen\
میں صدقے یا رسول اللہﷺ میں صدقے یا رسول اللہﷺ
بحرِ ظلمت میں ڈوبوں کو آپ بچانے آۓ
صدیق اکبر نے سن کر شاہِ امم کا فرماں
دل میں تھا کچھ اور ارادہ نکلے عمر جب گھر سے
ذوالنورین لقب تھا جن کا وہ عثمان غنی تھے
دینِ حق کی دعوت دی جو میرے پیارے نبی نے
ہے ایمان نبی کا نعرہ جن کو جان سے پیارا
پاکپتن کے والی ہوں یا ہوں لاہور کے داتا
پڑھتےہیں مہرانؔ جو نعتیں بھاگ جگا لیتے ہیں
— Unknown
منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے، کتنی ملی خیرات نہ پوچھو
عشق نبی ﷺ کونین کی دولت! عشق نبی ﷺ بخشش کی ضمانت
رشک جناں طیبہ کی گلیاں، ہر ذرہ فردوس بداماں
ظاہر میں تسکین دل وجااں باطن میں معراج دل و جاں ﷺ
تاج شفاعت سر پر پنہے حشر کا دولہا آ پہنچا ہے
میں کیا اور کیا میری حقیقت سب کچھ ہے سرکار کی نسبت
خالد میں صرف اتنا کہوں گا جاگ اٹھا اشکوں کا مقدر
— Unknown
یہ کس عذاب میں جاں ہے محمدؐ عربی
یہ کس پہ آئی ہوئی ہے گھڑی قیامت کی
یہ کس کے گھر میں ہے ماتم یہ کس کی آنکھ ہے نم
ترے دیار مقدس پہ ساۓ غروں کے
خطا معاف ترے بے نوا غریبوں کی
جہاں کو ہونا ہے اک روز گوش بر آواز
— Habib Jalib\
ہے مرا چارہ گر مدینے میں
کتنی صبحیں ظہور کرتا ہے
کتنی صدیوں پہ ہو گۓ ہیں محیط
تو نے تو کچھ بھی دیکھنے نہ دیا
یاد فرمائیے مرے مولا
کتنے ہوتے ہیں خوش نصیب عطا
— Ata Ul Haq Qasmi\
سرِ محفل کرم اتنا میری سرکار ہو جاۓ
تصور میں ترے ہرشےپہ یوں نظریں جماتا ہوں
غلامِ مصطفیٰ بن کر میں بک جاؤں مدینے میں
سنبھل کر پاؤں رکھنا حاجیوں شہرِ مدینہ میں
فنا اتنا تو ہو جاؤں میں تری ذاتِ عالی میں
تجھے منظور ہے پردہ مجھے پاسِ ادب ورنہ
حبیبؔ اس حال سے ابتر بھی حالِ زار ہو جاۓ
— Unknown