نِقاب اپنے رُخ سے اٹھا غوثِ اعظم
مجھے ایسا شیدا بنا غوثِ اعظم
مِرے پیر روشن ضمیر آپ کو تو
تمہارے ہیں جتنے مُرید اُن سبھی میں
بروزِ قِیامت ہمیں اپنے جھنڈے
جو بیماریوں میں گھرے ہیں انہیں تم
مُریدین کو جو ستاتے ہیں جِنّات
نظر سے یا جادو سے جو ہیں پریشاں
کلیجا شیاطیں کا تھرّا اُٹھے گا
سجائیں عِمامہ بڑھائیں جو داڑھی
وہ بہنیں جو پہنیں سدا’’ مَدنی بُرقع‘‘
جو ہیں وَقف، سنّت کی خدمت کی خاطر
جو روزانہ دیتے ہیں نیکی کی دعوت
سفر قافلے میں جو کرتے ہیں ہر ماہ
جو دیں راہِ مولا میں بارہ مہینے
جو اپناتے ہیں ’’مدنی انعام‘‘ اکثر
دمِ نَزْع پانی اُترتا نہیں ہے
ہے عطارؔ کو سَلبِ ایماں کا دھڑکا
— Unknown
