یا محمد، محمد میں کہتا رہا
جوبھی آنسو بہے میرے محبوب کے
یہ تو مانا کہ جنت ہے باغِ حسیں
جب چھڑا تذکرہ ان کے رخسار کا
سب سےصائم زمانےمیں معزورتھا
— Saim Chishti\
یا محمد، محمد میں کہتا رہا
جوبھی آنسو بہے میرے محبوب کے
یہ تو مانا کہ جنت ہے باغِ حسیں
جب چھڑا تذکرہ ان کے رخسار کا
سب سےصائم زمانےمیں معزورتھا
— Saim Chishti\
خدا کے بعد صاحب زمانوں سب جہانوں کا
دھڑکتا ہے دل بیدار و بینا جس کے سینے میں
زباں ہر دل کی سمجھے وہ زباں دانِ ہمہ عالم
دریں چہ شک کہ پیشِ آہنگ ہے وہ رہتی دنیا تک
بنایا جس نے آسمانوں کو افراد ایک ہی گھر کے
کرے خونِ جگر سے آبیادی کشتِ ویراں کی
دیا توحید کا پیغام اس نے بت پرستوں کو
کھینچیں بے ساختہ اس کی طرف درماندہ راندہ
— Abdul Aziz Khalid\
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
تیری کفشِ پا یوں سنوارا کروں میں
ترے قدموں پہ سر کو قربان کرکے
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں
مرا دین و ایماں فرشتے جو پوچھیں
خدارا اب آؤ کہ دم ہے لبوں پر
خدا خیر سے لاۓ وہ دن بھی نوریؔ
— Unknown
تِرا شکریہ تاجدارِ مدینہ
حَسیں پتّا پتّا حَسیں ڈالی ڈالی
خدا! دل سے دنیا کی اُلفت مِٹا دے
بُھلا دے چمن کے نظاروں کو بیشک
میں رِضوانِ جنّت کو تحفے میں دونگا
مدینے میں گھر سب کے غمخوار کا ہے
تجھے واسِطہ یاخدا مصطَفٰے کا
اگر ہو یقیں زخم بھر جائیں گے سب
تڑپتے ہیں جو ہِجر و فُرقت میں آقا
اِدھر سے اُدھر کیوں بھٹکتا پھروں میں
مدینے میں مرنے کا مجھ کو شَرَف دو
دو عطّارؔ کو اشکبار آنکھ آقا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
تم سا تو حسیں آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی
اے ظرفِ نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے
یہ تجربہ ایمان ہے اے رحمتِ عالم
یہ طور سے کہتی ہے ابھی تک شبِ معراج
وہ آنکھ جو روتی ہے عشقِ نبی میں
اعزاز یہ حاصل ہے تو حاصل ہے زمیں کو
ہوتا ہے جہاں ذکر محمدﷺ کے کرم کا
سرکار کی رحمت نے مگر خوب نوازا
— Khalid Mehmood Khalid\
یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
زمانہ دھوپ ہےاورچھاؤں ہےبس ایک بستی میں
مدینےکےمسافرتجھ پہ میرےجان ودل قربان
شرف نجھ کوبھی حاصل ہےمحمد کی غلامی کا
جہاں عشاق بستےہیں وہ بستی ان کی بستی ہے
کرم اتنا ہے فخری ان کی ذات پاک کا مجھ پر
— Zahid Fakhri\
مرسلوں میں کوئی بھی خیرالبشرؐ ایسا نہ تھا
نام جب سرکارؐ کا جپتا نہ تھا ہر صبح میں
لامکاں کی حد سے آگے ختم ہوتا ہے سفر
جا نہ سکتا جو تلاشِ رزق میں طیبہ تلک
داغ انگلی کے اشارے کا ہے سینے پر عیاں
— Aziz Ludhianvi\
نبی کا نام بگڑی کو بنا دیتا ہے پل بھر میں
جو ڈیرا دل میں غم کا ہے نبی کا نام لے ہر دم
محی الدین کا کہنا یہ شرف الدین کا کہنا
انگاروں پر بلالِ حبشی ہردم یہ ہی کہتے تھے
حلیمہ سعدیہ دائی نےیہ ہے بات فرمائی
ہے جابر جب تھی کی دعوت اے ثاقبؔ آقا کی! بولے
— Unknown
اے بِیابانِ عَرب تیری بہاروں کو سلام
جَبَلِ نور و جَبَلِ ثَور اور ان کے غاروں کو سلام
جھومتے ہیں مسکراتے ہیں مُغیلانِ عَرَب
رات دن رحمت برستی ہے جہاں پر جھوم کر
عشق میں دیوارِ کعبہ سے جو لپٹے ہیں وہاں
حجرِ اَسود، باب و میزاب و مقام و مُلتَزم
مُستجار و مُستجاب و بیرِ زم زم اور مَطاف
رکنِ شامی و عراقی و یمانی کو بھی اور
جو مسلماں خانۂ کعبہ کا کرتے ہیں طواف
خوب چُومے ہیں قدم ثَور و حِرا نے شاہ کے
مَدنی مُنّوں کا بھی حملہ خوب تھا بوجَہل پر
جگمگاتے گنبدِ خضرا پہ ہو رحمت مُدام
منبر و محرابِ جاناں اور سُنہری جالیاں
سیِّدی حمزہ کو، اور جُملہ شہیدانِ اُحُد
جس قدر جنّ وبشر میں تھے صحابہ شاہ کے
جس جگہ پر آکے سوئے ہیں صَحابہ دس ہزار
شوقِ دیدارِ مدینہ میں تڑپتے ہیں جو، اُن
غسلِ کعبہ کا بھی منظر کس قَدَر پُر کیف ہے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
ایسا عشق بسے میرے دل اندر
ایتھے منزلاں بڑیاں اوکھیاں نیں
جے روّے سامنے صورت دلبر دی
اے دعا رفیق دی ہر ویلے
— Unknown