شجر حجر تمہیں جھک کر سلام کرتے ہیں
زمیں کو عرشِ معلیٰ ہے تیرا گنبدِ سبز
مسافروں کو ترا در ہے منزلِ آخر
جنہیں جہاں میں کہیں بھی اماں نہیں ملتی
نظر میں پھرتے ہیں تیرے دیار کے منظر
سکونِ دل کی انہیں سے امید ہے ناصر
— Nasir Kazmi\
شجر حجر تمہیں جھک کر سلام کرتے ہیں
زمیں کو عرشِ معلیٰ ہے تیرا گنبدِ سبز
مسافروں کو ترا در ہے منزلِ آخر
جنہیں جہاں میں کہیں بھی اماں نہیں ملتی
نظر میں پھرتے ہیں تیرے دیار کے منظر
سکونِ دل کی انہیں سے امید ہے ناصر
— Nasir Kazmi\
آقا حضور آئیں گ آج نہیں تو کل سہی
جلوہء روۓ والضحیٰ نور نظر بنے گا جب
ان کا کرم ہے چار سو ان کی ہے مجھ کو جستجو
ان کے بغیر زندگی موت ہے زندگی نہیں
نعتوں کے پھول اسی طرح کھلتے رہے جو رات دن
ایسا بھی ہو گا ایک دن ہم اپنی داستانِ غم
وابستہ کر دے اے ریاضؔ ان سے خدا اگر ہمیں
— Unknown
ماوراۓ فکرِ انساں ہے ثناۓ مصطفیٰؐ
دل کی آنکھوں سے کوئی دیکھے حدیثِ زندگی
کیوں نہ میں ذاتِ پیمبرؐ کی ثنا خوانی کروں
نعمتِ قلب و جگر ہے الفتِ آلِ رسولِؐ
دنیا بھر کے جام و مینار سے توجہ ہٹ گئی
سب کے سب معصوم تھے جتنے تھے محرم آپؐ کے
دونوں عالم جھوم اٹھے ہیں مرے اشعار پر
— Karamat Bukhari\
بشر سے غیر ممکن ہے ثنا حضرت محمد کی
پسند حق ہوئی صَلِّ عَلٰی صورت محمد کی
ہے مژدہ مومنوں کو مَنْ رَّاٰنِیْ قَدْ رَاَ الْحَقَّ
بشر جن و مَلک ہرگز نہیں ممکن کہ پہچانیں
خدا سے اپنی اُمت کے لیے پوچھا جو موسیٰ نے
ہوئے بت سرنگوں آتش کدہ میں زَلزلہ آیا
الٰہی بندئہ ناچیز کی تجھ سے دُعا یہ ہے
بھکاری نعمتوں سے بھر رہے ہیں جھولیاں اپنی
یہ رحمت ہے کہ دیتے ہیں دعائیں دشمنوں کو بھی
چمکتی تھی وہ بجلی تیغِ سلطانِ رِسالت کی
بھرے ہیں جیب و داماں نعمتوں سے دونوں عالم کے
محبت رکھتے ہیں محبوبِ حق اپنے غلاموں سے
خدا اس واسطے قائم کرے گا بزمِ محشر کو
دِکھائی اپنی تیزی آفتابِ حشر نے جس دم
گنہگارو کہاں پھرتے ہو سرگرداں اِدھر آؤ
جسے کہتے ہیں محشر عید ہے وہ اَہلسنّت کی
بنائے جائیں گے مہماں غلامانِ رسول اللہ
نہ کیوں ہو ناز قسمت پر اگر اس طرح دم نکلے
دعا ہے یہ جمیلؔ قادری کی حق تعالیٰ سے
غزل اِک اَور بھی پڑھ اے جمیلؔ قادری رضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
منہ سے اک بار لگا لیتے جو مولا پانی
کون کہتا ہے کہ پانی کو ترستے تھے حسین
ظرف یہ حضرت عباس کو دیکھے کوئی
گرچہ بے درد نے پیاسا ہی کیا ذبح انہیں
— Prof Fayaz Ahmed Kavish Warsi\
جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
جس وقت تھے خدمت میں ان کی ابوبکر و عمر عثمان و علی
چاہیں تو اشاروں سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں دنیا کی
معراج کی حق سے وہ عرش معلیٰ پر پہنچے
اللہ غنی، سبحان اللہ کیا خوب ہے روضے کا نقشہ
کہتے ہیں عرب کے ذروں پر انوار کی بارش ہوتی ہے
— Unknown
پرکیف کس قدر غمِ پنہاں ہے اے حضورؐ
ہم آپؐ کے مقام کو سمجھے نہیں، بجا!
اُمت پہ کتنی آج گراں ہو گئی حیات
شیرازہ بند شوق ہے تیری نگاہ لطف
احسان و عدل و امن کے نعروں کے باوجود
مجروح کتنی غیرتِ آدم ہے آج کل
کس شان سے ہوا دلِ عاشق لہولہان
لاشے تڑپ رہے ہیں سرِ دارِ و زیر تیغ
کچلے ہوۓ سے کیوں ہیں خیالاتِ عرش گیر
— Naeem Siddique\
نبی کا جھنڈا لے کر نکلو دنیا پر چھا جاؤ
عاشق ہیں جو پاک نبی کے اُن کو لے کر ساتھ چلو
قریہ قریہ بستی بستی ذکر نبی کا عام کرو
دشمن ہیں جو پاک نبی کے اُن کو دفع دور کرو
رنگ برنگے جھنڈے چھوڑو تھام لو گنبد والا
ابنِ علی نے کرب و بلا میں تم کو یہ پیغام دیا
یہ جھنڈا ہے سیدنا صدیق کی آنکھ کا تارا
— Unknown
تمہارا ذکر جب کیا ہنر کمال ہوگیا
تمام ہوگئی مری کشیدگی نصیب سے
درود کیمیا ہے قلب و جاں کے اطمینان کو
مرا جہان ہست اس کے دم قدم کا فیض ہے
— Mujtaba Haider Sherazi\
بیاں ہو کس سے کمالِ محمدِ عربی
دُرُود کیوں نہیں پڑھتے خموش کیسے ہو
مجال کیا ہے کہاانس ومَلک کریں تعریف
یہ جان کیا دوجہاں گر مجھے مُیَسَّر ہوں
نرفت لا بزبان مبارکش ہرگز
زمانہ پلتا ہے اس آستانِ عالی سے
نبی کے نام سے تھراتے ہیں شہانِ جہاں
زیارتِ نبوی دِیدِ حق تعالیٰ ہے
الٰہی اُمتِ عاصی مری مجھے دے ڈال
لگا رہے ہیں ہمیشہ سے مہر و مہ چکر
بجائے سرمہ لگاؤں اسے میں آنکھوں میں
میں لے کے کیا کروں حور و قصور اے رضواں
فرشتو قبر میں مجھ سے سمجھ کے کرنا سوال
اندھیری رات نہ ہوگی مری لحد کی کبھی
گیاہ و خار و خس و خاک سے وہ بدتر ہے
جمیلؔ قادری شکر خدا کہ تو بھی ہوا
— Jamil Ur Rehman Qadri\