دلوں سے ہوکے گزرتا ہوا مدینے کو
میں اس کے ساتھ تصور میں چلتا جاتا ہوں
ہزار حسرت و ارماں کے ساتھ دیکھتا ہے
بدن کا دشت سُلگتا تھا ایک مدت سے
مجھے سکون کی دولت نصیب ہوتی ہے
خیال و خواب میں دل میں نگاہ میں نصرتؔ
— Nusrat Siddique\
دلوں سے ہوکے گزرتا ہوا مدینے کو
میں اس کے ساتھ تصور میں چلتا جاتا ہوں
ہزار حسرت و ارماں کے ساتھ دیکھتا ہے
بدن کا دشت سُلگتا تھا ایک مدت سے
مجھے سکون کی دولت نصیب ہوتی ہے
خیال و خواب میں دل میں نگاہ میں نصرتؔ
— Nusrat Siddique\
اللہ اور نبی پر ایمان ہے میرا
تمہارے ہیں زمین و آسماں ایمان ہے میرا
خدا کے اذن سے والی بنے غیبی خزانوں کے
طلب قطرہ کرے کوئی عطا دریا وہ کرتے ہیں
نجوم آفتاب و مہتاب و چاندنی اُن سے
خدائی راز سے واقف نبیء غیب داں سرور
لواءالحمد ہاتھوں میں شفاعت ان کی مرضی سے
اجاگر ہو گۓ کون ومکاں تاباں ہوۓ ذرے
— Unknown
دوعالم کے آقا سلامٌ علیکم
ترےنورسے ہےہراک حسن پیدا
تری نکہت زُلف کا نام جنت
گرے تو تمہارے کرم نے سنبھالا
ترا آستاں آرزوؤں کا حاصل
خدا کی مشیت ترا ہراشارا
ترے نور اول کی جلوہ نمائی
تمہیں تو ہو خالد کا دین اورایماں
— Khalid Mehmood Khalid\
اے ہوا
اے ہوا
اے ہوا
— Ejaz Rizvi\
کرے چارہ سازی زِیارت کسی کی
چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کی
نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کی
عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی
ابھی پار ہوں ڈوبنے والے بیڑے
کسی کو کسی سے ہوئی ہے نہ ہو گی
دَمِ حشر عاصی مزے لے رہے ہیں
رہے دِل کسی کی محبت میں ہر دَم
ترا قبضہ کونین و مَا فِیْہِمَا پر
خدا کا دِیا ہے ترے پاس سب کچھ
زمانہ کی دولت نہیں پاس پھر بھی
نہ پہنچیں کبھی عقل کل کے فرشتے
ہمارا بھروسہ ہمارا سہارا
قمر اِک اِشارے میں دو ٹکڑے دیکھا
ہمیں ہیں کسی کی شفاعت کی خاطر
مصیبت زَدو شاد ہو تم کہ ان سے
نہ پہنچیں گے جب تک گنہگار اُن کے
ہم ایسے گنہگار ہیں زُہد والو
مدینہ کا جنگل ہو اور ہم ہوں زاہد
ہزاروں ہوں خورشیدِ محشر تو غم کیا
بھرے جائیں گے خلد میں اَہلِ عصیاں
وہی سب کے مالک انہیں کا ہے سب کچھ
رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک پر تصدق
اُترنے لگے مَا رَمَیْتَ یَدُ اللہ
گدا خوش ہوں خَیْرٌلَّک کی صدا ہے
فَتَرْضٰی نے ڈالی ہیں باہیں گلے میں
خدا سے دُعا ہے کہ ہنگامِ رُخصت
— Hassan Raza Khan Barelvi\
جدھر دیکھوں مدینے کا حرم ہو
کہاں سرکار دولت مانگتا ہوں
جب آقا آخِری وقت آئے میرا
کرے پرواز روحِ مُضطَرِب یوں
بقیعِ پاک کی لِلّٰہِ اب تو
جو میٹھے مصطَفٰے کے غم میں روئے
ہمارے حالِ دل سے تم تو واقِف
اندھیرا لَحد میں ہے آہ! چھایا
اسے کیا خوفِ محشر ہو کہ جس کا
مٹا سکتا نہیں کوئی بھی اس کو
غمِ محبوب میں روتی رہے جو
شہا جتنے بھی دیوانے ہیں تیرے
جو تم چاہو یقینا دور مجھ سے
کرے آنکھوں سے سَیلِ اشک جاری
سدا کرتا رہوں سنَّت کی خدمت
کریں اسلامی بہنیں شرعی پردہ
دکھا دو سبز گنبد کی بہاریں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
کیف و مستی عطا مجھ کو کر دے خدا
اے شجر اے ہجر تم بھی شمس و قمر
مسکرانے لگی دل کی اک اک کلی
پھر اجازت ملی جب خبر یہ سنی
وہ اُحد کی زمیں جس کے اندر مکیں
جو ہیں محبوب رب اپنی ان سے ہی سب
ان کے مینار پر جب پڑے گی نظر
ہاتھ اٹھتے رہے، مجھ کو دیتے رہے
کیا کرے گا اِدھر، باندھ رختِ سفر
— Ubaid Raza\
اے نگاہِ شوق کھل کر دیکھ لے دلکش سماں
اور تک پُرکیف خاموشی سے ہے چھائی ہوئی
انؐ کے روضے پر یوں سجدے کررہی ہے چاندنی
کر دیا ہے چاندنی نے، ایسا مست و شادماں
دیکھتا ہوں جس طرف، ہے ایک عالم نور کا
نور کا سیلاب ٹھاٹھیں مارتا ہے چار سو
آسماں پر چاند تارے، محوِ استغراق ہیں
ہے بدن میرا زمیں پر روح ہے افلاک پر
خلد سے آکر فرشتے بھی مزار پاک کو
مائل بندہ نوازی ہے خدا، سچ با خدا
اس حسیں منظر کو شعروں میں بیاں کیسے کروں
— Naseer Ahmer\
سرکار کے غلاموں میں ہے نام ہو گیا
باقی کوئی بھی تشنگی رہتی نہیں اس کی
عشقِ رسول جس کے بھی دل میں سما گیا
معراج کی شب مسجد اقصیٰ میں دوستو
کن کی تھی کنجی میرے تو سرکار کی زباں
سینہ ہوا روشن میرا دکھ دور ہو گۓ
— Unknown
شافع روز محشر پہ لاکھوں سلام
سید الانبیاء خاتم المرسلین
مظہرشانِ داورپہ لاکھوں سلام
کفرکےشرسےجس نےبچایا ہمیں
ایسے پاکیزہ رہبرپہ لاکھوں سلام
جس کی خاطریہ دنیا بسائی گئی
اُس نبی،نورپیکرپہ لاکھوں سلام
وہ مدینے کی گلیوں کےشام وسحر
جلوہ گاہ پیمبرپہ لاکھوں سلام
اہل ایماں پہ ہوگی جو سایہ فگن
ایسی زُلف معطرپہ لاکھوں سلام
چھاگئیں ہرطرف جس کی تابانیاں
ایسےروۓمنورپہ لاکھوں سلام
حق نما حق بیاں،حق زباں بھی وہی
علم کے شہر انور پہ لاکھوں سلام
— Unknown