رنگینیئے گلاب نہ گلزار چاہیے
دنیا نہ مجھ کو مال کا انبار چاہیے
کعبہ کی عظمتیں مجھے تسلیم ہیں مگر
یہ آرزو ءِدل ہے اب یوں ادا نماز ہو
ہے خلد کی طلب نہ کسی حور سے غرض
اُن کا گنہگار کو تو چاہیے کرم
— Unknown
رنگینیئے گلاب نہ گلزار چاہیے
دنیا نہ مجھ کو مال کا انبار چاہیے
کعبہ کی عظمتیں مجھے تسلیم ہیں مگر
یہ آرزو ءِدل ہے اب یوں ادا نماز ہو
ہے خلد کی طلب نہ کسی حور سے غرض
اُن کا گنہگار کو تو چاہیے کرم
— Unknown
خموشیوں میں سلیقے، صدا کے رکھے ہیں
فلک کی آکھ بھی طیبہ کو رشک سے دیکھے
وہ ان کے پیار کی شبنم سے پا رہے ہیں نمو
نثار ہونا ہے ان کو سنہری جالی پر
ہمیشہ نور کی بارش مرے مدینے میں
عمل کا شوق عطا ہو کہ ہر سمت میں
مرے حضورؐ کی مسجد کا صحن، گنبدِ پاک
— Noreen Talat Arooba\
یا رسول اللہ ﷺ یا رسول اللہ ﷺ
اَلنَّبِیٗ صَلُّوٗا عَلَیہِ صَلَواتُ اللہِ عَلَیہِ
کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
اَلنَّبِی یَامَن حَضَرَ اَلنَّبِی خَیرُ البَشَرُ
دل کرو ٹھنڈا مرا کفِ پا چاند سا
اَلنَّبِی ذَاکَ العُرُوس ذِکرہٌ یُحیِ النُّفُوس
بے ہنر و بےتمیز کس کو ہوۓ ہیں عزیز
اَلنَّبِی المُصطَفیٰ اِینُ زَم زَم و صَفَا
تم سے جہاں کا نظام تم پہ کروڑوں درود
اَنَّبِی ذَاکَ المَلِیحِ قُولُہ قَولُ صَحِیح
کر کے تمہارے گناہ مانگیں تمہاری پناہ
وَالحَسَنُ اُمُّ الحُسَین لِلنَّبِیُ رَیحَانَتَینِ
یہ عبید ادنیٰ غلام تیرا ہے خیر الانام
— Ubaid Raza\
دنیا کو بدلنے آپؐ آۓ
حاوی ہیں تمام معجزوں پر
اپنے ہیں مکہ اور مدینہ
آقاؐ سے سخن کی یہ گھڑی ہے
کیسے تھے چاند اور سورج
— Imitaz Ul Haq Imtiaz\
یہ وہ در ہے کہ جہاں دل نہیں توڑے جاتے
یہ ہے آقاﷺ کی عنایت وہ کرم کرتے ہیں
شہر سرکارﷺ کی خاک کے ہم ذرے ہوتے
انکی دہلیز کے منگتے بڑی موج میں ہیں
اپنا مدفن جو مقدر سے بن جاتا بقیع پاک
— Unknown
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
رحم کی سرکار میں پرسش ہے ایسوں کی بہت
تیرہ دل کو جلوۂ ماہِ عرب دَرکار ہے
کچھ خبر ہے میں برا ہوں کیسے اچھے کا برا
اس گلی سے دُور رہ کر کیا مریں ہم کیا جئیں
اُن کے دَر کی بھیک چھوڑیں سروَری کے واسطے
خاک اُن کے آستانے کی منگا دے چارہ گر
سایۂ دیوارِ جاناں میں ہو بستر خاک پر
دَردِ عصیاں کی ترقی سے ہوا ہوں جاں بلب
ذَرَّۂ طیبہ کی طلعت کے مقابل اے قمر
موسم گل کیوں دکھائے جاتے ہیں یہ سبز باغ
بیکسوں پر مہرباں ہے رحمتِ بیکس نواز
بندۂ سرکار ہو پھر کر خدا کی بندگی
رُوسیہ ہوں منہ اُجالا کر دے اے طیبہ کے چاند
خار ہائے دشتِ طیبہ چبھ گئے دل میں مِرے
صبحِ محشر چونک اے دل جلوۂ محبوب دیکھ
اُن کے دَر پر موت آ جائے تو جی جاؤں حسن ؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
جو سینے کو مدینہ اُن کی یادوں سے بناتے ہیں
جو اپنی زندگی میں سنّتیں اُن کی سجاتے ہیں
غمِ سَروَر میں رونے کا قرینہ یاالٰہی دے
جو دیدارِمحمد کی تڑپ رکھتے ہیں سینے میں
زمانہ جس کو ٹھکرادے، ہر اک دُھتکار دے ایسے
فدا میں کیوں نہ ہو جاؤں ، نبی کی شانِ رحمت پر
جب اُن کے سامنے لال آمِنہ کا مسکراتا ہے
بِاِذنِ اللہ ساری نعمتوں کے ہیں وُہی قاسم
مدینے کی تمنّا میں جئے جاتے ہیں دیوانے
حسدکی آگ میں جل بُھن کے شیطاں خاک اڑاتاہے
خدا و مصطَفٰے ناراض ہوتے ہیں سنو ان سے
غلامو، مت ڈرو محشر کی گرمی سے چلے آؤ
نظارے ان کے آگے ہیچ ہوتے ہیں گلستاں کے
نہیں ہیں نیکیاں پلّے مگر گھبرا نہ اے عطّارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
رُخ سے کاکَل ہٹا دیا تونے
شب کو ملنے کی دے کے اِک امید
رُخ زیبا کی اک جھلک سے حبیب
کوئی ارمان اب نہیں باقی
نہ رہی کچھ خبر سر و پا کی
میری باتوں پہ لوگ ہنستے ہیں
تاقیامت کبھی نہ اچھا ہو
کوئی آواز اب نہیں بھاتی
اپنے چہرے ایک درشن میں
کچھ نہیں یاد اب تو عَرَبی کو
— Shaykh Ul Islam Dr Muhammad Tahir Ul Qadri\
نبیؐ کی یاد میں مہکے چمن آہستہ آہستہ
سفر در پیش ہے تجھ کو مدینے کی فضاؤں کا
نبیؐ کی نعت لکھنے سے مجھے یہ فیض حاصل ہے
درود پاک جب منظور ہوجاتا ہے نوشابہؔ
— Noshaba Adnan\
سمجھے گا کون، کیا ہے یہ رمزِ جہانِ شوق
طیبہ کا عزم، ہونٹوں پہ صلِ علیٰ کا ورد
پڑتے نہیں زمیں پہ قدم جذب و کیف سے
کانوں میں گونج سے ہے درود و سلام کی
کیا کیا تھا دل میں عرض کریں گے حضورؐ سے
انؐ کے قدم سے جا کے نگاہیں لپٹ گئیں
منزل ہے جب دیار نبیؐ کی نگاہ میں
— Ameen Rahat Chugtai\