وہی میری محبت کا جہاں ہے
نہیں کوئی خطر، جب تک سروں پر
حقیقت میں ہے جو عاشق نبیؐ کا
شہِؐ بطحا ہمیں ہے فخر اس پر
اُسے اک دن ملے گی کامرانی
حوادث سے ہے وہ بے خوف کتنا
اُسے ہے یاد درسِ صبر کتنا
بیاں اُن سے کرے گی یہ خموشی
— Riaz Nadeem Niazi\
وہی میری محبت کا جہاں ہے
نہیں کوئی خطر، جب تک سروں پر
حقیقت میں ہے جو عاشق نبیؐ کا
شہِؐ بطحا ہمیں ہے فخر اس پر
اُسے اک دن ملے گی کامرانی
حوادث سے ہے وہ بے خوف کتنا
اُسے ہے یاد درسِ صبر کتنا
بیاں اُن سے کرے گی یہ خموشی
— Riaz Nadeem Niazi\
ذاتِ والا پہ بار بار دُرود
رُوئے اَنور پہ نور بار سلام
اس مہک پر شمیم بیز سلام
ان کے ہر جلوہ پر ہزار سلام
ان کی طلعت پہ جلوہ ریز سلام
جس کی خوشبو بہارِ خلد بسائے
سر سے پا تک کرور بار سلام
دل کے ہمراہ ہوں سلام فدا
چارۂ جان درد مند سلام
بے عدد اور بے عدد تسلیم
بیٹھتے اٹھتے جاگتے سوتے
شہریارِ رُسل کی نذر کروں
گورِ بیکس کو شمع سے کیا کام
قبر میں خوب کام آتی ہے
انہیں کس کی دُرود کی پروا
ہے کرم ہی کرم کہ سنتے ہیں
جان نکلے تو اس طرح نکلے
دل میں جلوے بسے ہوئے تیرے
اے حسنؔ خارِ غم کو دِل سے نکال
— Hassan Raza Khan Barelvi\
دل کی کلی کھلی ہوئی ذکرِ حضور ﷺ سے
سارے جہاں میں روشنی ذکرِ حضورﷺ سے
سینہ جو سب کا روشن ہے ذکرِ حضورﷺ سے
سب تارے جگمگاتے ہیں ذکرِ حضورﷺ سے
صدقہ جہان کھاتا ہے ذکرِ حضورﷺ سے
گلشن یہ سب مہکتے ہیں ذکرِ حضورﷺ سے
ثاقبؔ کو جو بھی ملتا ہے صدقہ حضور کا
— Unknown
سد لو ہن سرکار مدینے
جے رب سن لیے میریاں عرضاں
آوے اوگن ہار مدینے
رب آکھے میں بخش دیاں
آوے اوگن ہار مدینے
ہر واری مینوں روندیاں چھڈ کے
آوے اوگن ہار مدینے
ہر ویلے قدماں وچ رہندے
آوے اوگن ہار مدینے
جو حب دار سجن سیداں دا
آوے اوگن ہار مدینے
— Unknown
کونین کا مسجود ہے محبوب ہے تُو
تعزیم سے لیتا ہے خدا نامِ محمد ﷺ
اندھیری رات ہے شمس الضحیٰ کی بات کرو
یہ عقلِ خیرت سے مائل سوال ہے
احمد کے احد میں کیا سمجھوں
خدا کے سوا کوئی کیا جانتا ہے
احد احمد وچ فلک نہ بھلیا
اے عشق تُو بتا
احمد کے احد میں کیا سمجھوں
ہزاروں سال رہا عرش پر خدا بن کر
کوئی راز حقیقت کی سمجھا
یہ بھید وہی سمجھا جو اہلِ نظر ہے
اس بھید کے سمجھنے سےعاجز ہے علم و عقل
عمامہ کھڑے باندھتے تھے شاہِ سرفراز
احمد کے احد میں کیا سمجھوں
چلو مانا محمدؐ آدمی ہے
اللہ کا محبوب ہے کم پایہ نہیں ہے
ایسے کمالات بشر میں تو نہیں ہوتے
حسن کی جان ہو گیا ہوگا
تورے نور سے سب سنسار ہوا
کہیں یٰسین کہا کہیں طحہٰ کہا
اسلام کیا ہے تری اداؤں کا نام ہے
لولاک کی پگڑی سر سوہے
توہے یاد کرات مورا انگ انگ ہے
بلہار نہ ہو جاؤں
موہے دیس عرب من بھاوت ہے
— Unknown
آہ اب وقتِ رخصت ہے آیا
صدمۂ ہِجر کیسے سہوں گا
بے قراری بڑھی جا رہی ہے
دل ہوا جاتا ہے پارہ پارہ
کس طرح شوق سے میں چلا تھا
آہ اب چُھوٹتا ہے مدینہ
کُوئے جاناں کی رنگیں فَضاؤ
لو سلام آخِری اب ہمارا
کاش! قسمت مِرا ساتھ دیتی
جان قدموں پہ قربان کرتا
سوزِ الفت سے جلتا رہوں میں
چاہے دیوانہ سمجھے زمانہ
میں جہاں بھی رہوں میرے آقا
التجا میری مقبول فرما
کچھ نہ حُسنِ عمل کر سکا ہوں
بس یِہی ہے مِرا کُل اَثاثہ
آنکھ سے اب ہوا خون جاری
جلد عطارؔ کو پھر بلانا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
آج کچھ اور نظر آتی ہے چھپ رحمت کی
اپنے عشاق کو کیونکر وہ رکھیں گے محروم؟
میرے نامہ میں کوئی نیک عمل ہی کب تھا؟
صبح تک میں بھی مشرف بہ زیارت ہوں گا
اذن مدحت کا جو چاہا تو مرے آقاؐ نے
میرے آقاؐ! مجھے حشر میں نہ تنہا کرنا
کیا لکھے آپؐ کے الطاف کی بابت سائلؔ
— Sail Nizami\
دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے
تری وحشتوں سے اے دِل مجھے کیوں نہ عار آئے
مِرے دل کو دردِ اُلفت وہ سکون دے الٰہی
مجھے نزع چین بخشے مجھے موت زندگی دے
سبب وُفورِ رحمت مری بے زبانیاں ہیں
کھلیں پھول اُس پھبن کے کھلیں بخت ہر چمن کے
نہ حبیب سے محب کا کہیں ایسا پیار دیکھا
مجھے کیا اَلم ہو غم کا مجھے کیا ہو غم اَلم کا
جو امیر و بادشاہ ہیں اسی دَر کے سب گدا ہیں
جو چمن بنائے بن کو جو جناں کرے چمن کو
یہ کریم ہیں وہ سرور کہ لکھا ہوا ہے دَر پر
ترے صدقے جائے شاہا یہ ترا ذلیل منگتا
چمک اُٹھے خاکِ تیرہ بنے مہر ذَرَّہ ذَرَّہ
نہ رُک اے ذلیل و رُسوا دَرِ شہریار پر آ
تری رحمتوں سے کم ہیں مرے جرم اِس سے زائد
گل خلد لے کے زاہد تمہیں خارِ طیبہ دے دوں
بنے ذَرَّہ ذَرَّہ گلشن تو ہو خار خار گلبن
ترے صدقے تیرا صدقہ ہے وہ شاندار صدقہ
ترے دَر کے ہیں بھکاری ملے خیر دَم قدم کی
حسنؔ ان کا نام لے کر تو پکار دیکھ غم میں
— Hassan Raza Khan Barelvi\
اللہ نے پہنچایا سرکارﷺ کے قدموں میں
دل کا تھا عجب عالم ان کے در اقدس پر
وہ رب محمدﷺ کا تھا خاص کرم جس نے
جب سامنے جالی کے اشکوں کی سلامی دی
تارا تھا کہ جگنو تھا گوہر تھا کہ برگ گل
سانسوں کا تموج بھی اک بار لگا مجھ کو
وہ اپنے گناہوں کا احساس تھا بس تائب
— Unknown
یا نبی ﷺ صبح و شام کیجۓ گا
دل دھڑکنے کی بھی نہ آۓ صدا
وہاں الفاظ کام آتے نہیں
لمحہ لمحہ کٹے درودوں میں
یا نبی ﷺ صبح و شام کیجۓ گا
— Unknown